برطانیہ کا پاکستان کو 'ریڈ لسٹ' جبکہ بھارت کو 'ایمبر لسٹ' میں رکھنے کا فیصلہ سیاسی اقدام قرار
2 min readوزیرانسانی حقوق شیریں مزاری نے سفری پابندیوں کے حوالے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے اور بھارت کو ایمبر لسٹ میں شامل کرنے کے اقدام کو سیاسی قرار دے دیا.
وفاقی وزیرنےٹوئٹر پیغام میں کہا برطانوی حکومت کس منطق کے تحت بھارت کو ایمبر لسٹ میں جگہ دے سکتی ہے جبکہ پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھا ہوا ہے؟ اس تفریق کی کوئی سائنسی وجہ نہیں ہے. سیاست پھر میدان میں آگئی ہے. برطانوی کابینہ واضح طور پر بھارت کی جانب اپنا سیاسی جھکاؤ دِکھا رہی ہے.
How can UK govt rationally place India on Amber list while keeping Pakistan on Red List? No scientific reason for this discrimination. Only politics coming into play again -- UK cabinet showing clear political proclivity towards India. Unfortunate indeed. @CTurnerFCDO pic.twitter.com/2P2W3LDDu0
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 5, 2021
شیریں مزاری نے برطانوی قانون ساز نازشاہ کاٹوئٹ بھی شیئرکیا جنہوں نے بین الاقوامی سفری پابندیوں کے حوالے سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں رکھنے اور بھارت میں کووڈ کی بدتر صورتحال کے باوجود اُسے ایمبر لسٹ میں شامل کرنے پر برطانوی حکومت کے فیصلے پر تنقید کی تھی.
I had stated in April this year that UK was playing politics on Covid restrictions when they put Pak on Red List 2 weeks before India despite the Covid management disaster in India as opp to Pak's good management raised internationally. NOW UK again playing politics targeting Pak pic.twitter.com/rIHTEDXqRU
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 5, 2021
اس سے قبل شیری مزاری رواں برس اپریل میں بھی برطانوی حکومت پر پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل کیے جانے پر تنقید کرچکی ہیں.
For the latest news, follow us on Twitter @Aaj_Urdu. We are also on Facebook, Instagram and YouTube.















Comments are closed on this story.