<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 13:59:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 13:59:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پولیس نے مجھے برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا، جمیل فاروقی کا دعویٰ</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30296171/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گرفتار نجی ٹی وی اینکر و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جمیل فاروقی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ویڈیو بیان میں جمیل فاروقی نے کہا کہ وزارت داخلہ کے احکامات پر اتوار کے روز پولیس نے کراچی میں واقع دفتر کے باہر سے مجھے اغوا کرکے 12 گھنٹے کے لئے نا معلوم مقام پر منتقل کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ گرفتار کرنے کے بعد پولیس نے میری گاڑی بھی ضبط کرلی جب کہ گرفتاری سے متعلق اہلِ خانہ و ادارے کو بھی آگاہ کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب  اسلام آباد  پولیس نے جمیل فاروقی کی جانب سے اُن پر جنسی تشدد کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد پولیس نے گزشتہ روز بذریعہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جمیل  فاروقی  کی گرفتاری کی تصدیق کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہےکہ ملزم جمیل فاروقی نے اسلام آباد پولیس پر جھوٹا الزام عائد کیا تھا، اس کے خلاف تھانہ رمنا میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 499، 500، 501 اور 186 کے تحت مقدمہ درج ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد پولیس کے کا کہنا تھا کہ ملزم نے پولیس پر شہباز شبیر عرف شہباز گل پر جسمانی اور جنسی تشدد کا الزام لگایا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گرفتار نجی ٹی وی اینکر و سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جمیل فاروقی نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں برہنہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔</strong></p>
<p>ایک ویڈیو بیان میں جمیل فاروقی نے کہا کہ وزارت داخلہ کے احکامات پر اتوار کے روز پولیس نے کراچی میں واقع دفتر کے باہر سے مجھے اغوا کرکے 12 گھنٹے کے لئے نا معلوم مقام پر منتقل کیا۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ گرفتار کرنے کے بعد پولیس نے میری گاڑی بھی ضبط کرلی جب کہ گرفتاری سے متعلق اہلِ خانہ و ادارے کو بھی آگاہ کرنے کا موقع فراہم نہیں کیا گیا۔</p>
<p>دوسری جانب  اسلام آباد  پولیس نے جمیل فاروقی کی جانب سے اُن پر جنسی تشدد کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا۔</p>
<p>اسلام آباد پولیس نے گزشتہ روز بذریعہ ٹوئٹر اکاؤنٹ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جمیل  فاروقی  کی گرفتاری کی تصدیق کی۔</p>
<p>ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہےکہ ملزم جمیل فاروقی نے اسلام آباد پولیس پر جھوٹا الزام عائد کیا تھا، اس کے خلاف تھانہ رمنا میں پاکستان پینل کوڈ (پی پی سی) کی دفعات 499، 500، 501 اور 186 کے تحت مقدمہ درج ہے۔</p>
<p>اسلام آباد پولیس کے کا کہنا تھا کہ ملزم نے پولیس پر شہباز شبیر عرف شہباز گل پر جسمانی اور جنسی تشدد کا الزام لگایا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30296171</guid>
      <pubDate>Mon, 22 Aug 2022 22:06:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
