<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 16:55:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 16:55:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزارتِ داخلہ نے اے آر وائی نیوز کا این او سی منسوخ کردیا</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30295151/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزارت داخلہ نے نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی) نیوز کا این او سی منسوخ کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این او سی کی منسوخی تحریک انصاف کے گرفتار رہنما شہباز گل کے اداروں سے متعلق ریمارکس کو ملک میں نشر کرنے کے دو روز بعد کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.aaj.tv/large/2022/08/1221250902fd959.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق فیصلہ خفیہ اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا، جس کے تحت اے آر وائی چینل کی سیکیورٹی کلیرئنس واپس لے لی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی ایک اے آر وائی نیوز ٰ عہدیدار نے فرانسیسی خبر ایجنسی (اے ایف پی) کو بتایا کہ پاکستان میڈیا اتھارٹی (پی ایم اے) نے مبینہ طور پر فتنہ انگیز مواد نشر کرنے پر چینل کی نشریات کو بند کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نجی ٹی وی نیٹ ورک کے نائب صدر عماد یوسف کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ فیصلہ غیر قانونی اور مضحکہ خیز تھا جسے کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے مذکورہ ٹی وی چینل کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نفرت، فتنہ انگیز مواد نشر کرنا چینل کے بارے میں بد نیتی کے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیمرا حکام نے اے آر وائی کو جاری کردہ نوٹس کی تصدیق کردی جس میں چینل کے مالک کو بدھ کے روز سماعت کے لئے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس (پی ایف یو جے) نامی صحافتی تنظیم نے ٹرانسمیشن کی بحالی نہ ہونے کی صورت میں حکومت کو ملک گیر احتجاج سے انتباہ کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزارت داخلہ نے نجی ٹی وی چینل (اے آر وائی) نیوز کا این او سی منسوخ کردیا۔</strong></p>
<p>این او سی کی منسوخی تحریک انصاف کے گرفتار رہنما شہباز گل کے اداروں سے متعلق ریمارکس کو ملک میں نشر کرنے کے دو روز بعد کیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-2/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.aaj.tv/large/2022/08/1221250902fd959.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع کے مطابق فیصلہ خفیہ اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں کیا گیا، جس کے تحت اے آر وائی چینل کی سیکیورٹی کلیرئنس واپس لے لی گئی۔</p>
<p>سابق وزیر اعظم عمران خان کے حامی ایک اے آر وائی نیوز ٰ عہدیدار نے فرانسیسی خبر ایجنسی (اے ایف پی) کو بتایا کہ پاکستان میڈیا اتھارٹی (پی ایم اے) نے مبینہ طور پر فتنہ انگیز مواد نشر کرنے پر چینل کی نشریات کو بند کردیا ہے۔</p>
<p>نجی ٹی وی نیٹ ورک کے نائب صدر عماد یوسف کا کہنا تھا کہ حکومت کا یہ فیصلہ غیر قانونی اور مضحکہ خیز تھا جسے کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا۔</p>
<p>اے ایف پی کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے مذکورہ ٹی وی چینل کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ نفرت، فتنہ انگیز مواد نشر کرنا چینل کے بارے میں بد نیتی کے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>پیمرا حکام نے اے آر وائی کو جاری کردہ نوٹس کی تصدیق کردی جس میں چینل کے مالک کو بدھ کے روز سماعت کے لئے پیش ہونے کی ہدایت کی گئی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس (پی ایف یو جے) نامی صحافتی تنظیم نے ٹرانسمیشن کی بحالی نہ ہونے کی صورت میں حکومت کو ملک گیر احتجاج سے انتباہ کردیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30295151</guid>
      <pubDate>Fri, 12 Aug 2022 21:32:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
