<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 17:36:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 17:36:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مالکان کے تشدد سے کمسن گھریلو ملازم کامران کی ہلاکت، مزید 3 افراد گرفتار</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30292290/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور میں مالکان کے تشدد سے کمسن گھریلو ملازم کامران کی ہلاکت کے معاملے پر مزید 3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاہور کے علاقے ڈیفنس میں کمسن گھریلو ملازموں پر انسانیت سوز تشدد کا واقعہ پیش آیا جہاں  پیٹ کی آگ بجھانا بچوں کا جرم بن گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالکان کے بدترین تشدد سے جاں بحق ہونے والے 11سالہ کامران کی لاش لواحقین کے حوالے کردی گئی جبکہ مقتول کے 6 سالہ بھائی رضوان کا میڈیکل بھی مکمل کرلیا گیا اورچائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے تشدد کے الزام میں نصر اللہ، اس کی بیوی شبانہ اور بیٹے محمود الحسن کو گزشتہ روز ہی گرفتار کرلیا تھا جبکہ ابوالحسن اور حنا تاحال مفرور ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملزمان کے مالک مکان کا کہنا ہے کہ کرایہ داروں کے ڈر سے بچے سہمے رہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید 3 ملزمان کو حراست میں لےکر تفتیش کی جارہی ہے، ابو الحسن ریکارڈیافتہ ہے جس کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اور آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لے رکھا ہے اور سی سی پی او لاہور سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور میں مالکان کے تشدد سے کمسن گھریلو ملازم کامران کی ہلاکت کے معاملے پر مزید 3 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔</strong></p>
<p>لاہور کے علاقے ڈیفنس میں کمسن گھریلو ملازموں پر انسانیت سوز تشدد کا واقعہ پیش آیا جہاں  پیٹ کی آگ بجھانا بچوں کا جرم بن گیا۔</p>
<p>مالکان کے بدترین تشدد سے جاں بحق ہونے والے 11سالہ کامران کی لاش لواحقین کے حوالے کردی گئی جبکہ مقتول کے 6 سالہ بھائی رضوان کا میڈیکل بھی مکمل کرلیا گیا اورچائلڈ پروٹیکشن بیورو کے حوالے کردیا گیا۔</p>
<p>پولیس نے تشدد کے الزام میں نصر اللہ، اس کی بیوی شبانہ اور بیٹے محمود الحسن کو گزشتہ روز ہی گرفتار کرلیا تھا جبکہ ابوالحسن اور حنا تاحال مفرور ہیں۔</p>
<p>ملزمان کے مالک مکان کا کہنا ہے کہ کرایہ داروں کے ڈر سے بچے سہمے رہتے تھے۔</p>
<p>پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مزید 3 ملزمان کو حراست میں لےکر تفتیش کی جارہی ہے، ابو الحسن ریکارڈیافتہ ہے جس کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔</p>
<p>وزیراعلیٰ حمزہ شہباز اور آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لے رکھا ہے اور سی سی پی او لاہور سے رپورٹ بھی طلب کر رکھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30292290</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Jul 2022 17:28:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
