<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 08:09:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 08:09:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو خبردار کردیا</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30292254/f</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;دنیا نے میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والی پیغام رسانی کی مقبول ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو خبردار کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے ٹوئٹر پرجاری &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://twitter.com/wcathcart/status/1546567955671961600?s=20&amp;amp;t=fFBypiDfBNNWVBqPvHLHWA"&gt;بیان&lt;/a&gt; میں صارفین کو ایپلی کیشن کے جعلی ورژن ڈاؤن لوڈ کرنے سے متعلق کہا کہ ایسے ورژن ڈاؤن لوڈ کرنے سے صارفین کو سکیورٹی مسائل پیش آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ول کیتھ کارٹ نے کہا کہ کمپنی کی سکیورٹی ٹیم کو گوگل پلے اسٹور میں واٹس ایپ کا ایک جعلی ورژن نظرآیا ہے، جو صارفین کو نئے فیچرز پیش کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ واٹس ایپ کی سکیورٹی ٹیم نے ایپس کے اندر چھپا ہوا میلویئر (سافٹ ویئر) کو کھوج لگا کر نکالا ہے، جس میں ‘Hey WhatsApp’ اور دیگر شامل ہیں، جسے ‘Hey Mods’ نامی ایک ڈویلپر نے گوگل پلے اسٹور کے باہر پیش کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واٹس ایپ کے سربراہ نے بتایا کہ اس طرح کے جعلی ورژن  سے لوگوں کے فون میں ذاتی معلومات چوری کرنے کی اسکیم تھی جبکہ کمپنی Hey Mods کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ صارفین ایپ اسٹور سے قابلِ اعتماد واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>دنیا نے میں سب سے زیادہ استعمال کیا جانے والی پیغام رسانی کی مقبول ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اپنے صارفین کو خبردار کردیا ہے۔</strong></p>
<p>واٹس ایپ کے سربراہ ول کیتھ کارٹ نے ٹوئٹر پرجاری <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://twitter.com/wcathcart/status/1546567955671961600?s=20&amp;t=fFBypiDfBNNWVBqPvHLHWA">بیان</a> میں صارفین کو ایپلی کیشن کے جعلی ورژن ڈاؤن لوڈ کرنے سے متعلق کہا کہ ایسے ورژن ڈاؤن لوڈ کرنے سے صارفین کو سکیورٹی مسائل پیش آسکتے ہیں۔</p>
<p>ول کیتھ کارٹ نے کہا کہ کمپنی کی سکیورٹی ٹیم کو گوگل پلے اسٹور میں واٹس ایپ کا ایک جعلی ورژن نظرآیا ہے، جو صارفین کو نئے فیچرز پیش کر رہا تھا۔</p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ واٹس ایپ کی سکیورٹی ٹیم نے ایپس کے اندر چھپا ہوا میلویئر (سافٹ ویئر) کو کھوج لگا کر نکالا ہے، جس میں ‘Hey WhatsApp’ اور دیگر شامل ہیں، جسے ‘Hey Mods’ نامی ایک ڈویلپر نے گوگل پلے اسٹور کے باہر پیش کیا تھا۔</p>
<p>واٹس ایپ کے سربراہ نے بتایا کہ اس طرح کے جعلی ورژن  سے لوگوں کے فون میں ذاتی معلومات چوری کرنے کی اسکیم تھی جبکہ کمپنی Hey Mods کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہے۔</p>
<p>تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ صارفین ایپ اسٹور سے قابلِ اعتماد واٹس ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30292254</guid>
      <pubDate>Wed, 13 Jul 2022 13:35:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
