<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 04:15:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 04:15:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرینوں کی تاخیر: لاہور کے مسافروں کی مشکلات بڑھ گئی</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30291917/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لاہور:لاہور میں 20  سے زائد ٹرینوں کی تاخیر پر ریلوے انتظامیہ اور مسافروں میں جھگڑا ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حوالے سے ٹکٹ کلکٹر ریلوے نے آج نیوز کو بتایا کہ انہوں نے سب کو آگاہ کر دیا ہے کہ کراچی سے ٹرینیں لیٹ ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/1nCK3DobaoQ" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture" allowfullscreen&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کراچی ٹریک پر پانی موجود ہے جس کی وجہ سے ٹرین پانچ کلومیٹر یا 10 کلومیٹر کی رفتار سے سفر چل رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مسافروں نے ریلوے عملے کے برے رویے کی شکایت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک مسافر نے بتایا کہ اوقات کے بارے میں پوچھنے پر عملہ مسافروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں  نے کہا کہ لوگ بہت پریشان ہیں اور ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے نظام پر افسوس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریلوے کے ٹکٹ کلیکٹر نے کہا کہ انتظامیہ نے کراچی ایکسپریس شام 5:30 بجے اور قراقرم ایکسپریس شام 7:30 پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق پاکستان میں عید الاضحیٰ (کل) 10 جولائی کو منائی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر سال لوگ عید پر اپنے آبائی علاقوں کا سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے تمام ٹریولنگ سروسز پر رش ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے 3 جولائی کو 8 جولائی سے 12 جولائی تک عیدالاضحیٰ کی پانچ تعطیلات کی منظوری دی تھی، ایسے اعلانات لوگوں کے منصوبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مسافروں کی سہولت کے لیے پاکستان ریلوے نے عید کی تعطیلات پر تین خصوصی ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لاہور:لاہور میں 20  سے زائد ٹرینوں کی تاخیر پر ریلوے انتظامیہ اور مسافروں میں جھگڑا ہوگیا۔</strong></p>
<p>اس حوالے سے ٹکٹ کلکٹر ریلوے نے آج نیوز کو بتایا کہ انہوں نے سب کو آگاہ کر دیا ہے کہ کراچی سے ٹرینیں لیٹ ہو رہی ہیں۔</p>
<iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/1nCK3DobaoQ" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture" allowfullscreen></iframe>
<p>انہوں نے کہا کہ کراچی ٹریک پر پانی موجود ہے جس کی وجہ سے ٹرین پانچ کلومیٹر یا 10 کلومیٹر کی رفتار سے سفر چل رہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب مسافروں نے ریلوے عملے کے برے رویے کی شکایت کی ہے۔</p>
<p>ایک مسافر نے بتایا کہ اوقات کے بارے میں پوچھنے پر عملہ مسافروں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا۔</p>
<p>انہوں  نے کہا کہ لوگ بہت پریشان ہیں اور ایسے حالات سے نمٹنے کے لیے نظام پر افسوس ہے۔</p>
<p>ریلوے کے ٹکٹ کلیکٹر نے کہا کہ انتظامیہ نے کراچی ایکسپریس شام 5:30 بجے اور قراقرم ایکسپریس شام 7:30 پر چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق پاکستان میں عید الاضحیٰ (کل) 10 جولائی کو منائی جائے گی۔</p>
<p>ہر سال لوگ عید پر اپنے آبائی علاقوں کا سفر کرتے ہیں جس کی وجہ سے تمام ٹریولنگ سروسز پر رش ہوتا ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے 3 جولائی کو 8 جولائی سے 12 جولائی تک عیدالاضحیٰ کی پانچ تعطیلات کی منظوری دی تھی، ایسے اعلانات لوگوں کے منصوبوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔</p>
<p>مسافروں کی سہولت کے لیے پاکستان ریلوے نے عید کی تعطیلات پر تین خصوصی ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30291917</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Jul 2022 13:58:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
