<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 10:24:39 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 10:24:39 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دل کے دورے کے علاج کے لیے ’مکڑی کے زہر‘ کا استعمال
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30291629/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سڈنی: آسٹریلیا میں محققین کی ایک ٹیم نے مکڑی کے زہر سے دل کے دورے کا علاج دریافت کیا ہے اور اب اس جان بچانے والے نسخے کو ایک مقامی کمپنی کے ذریعے مارکیٹ میں لانے کی کوشش کررہی ہے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیورسٹی آف کوینزلینڈ کے مرکزی محقق اور برسبن کی کمپنی انفنسا بائیوسائنس کے سی ای او ایسوسی ایٹ پروفیسر مارک سمائتھ کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں پہلی دوا ہوگی جو دل کے دورے یا سٹروک کے نتیجے میں ہونے والے خلیوں کے نقصان کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;"دل وہ خلیے دوبارہ نہیں بنا سکتا جو دل کے دورے کے وقت مر جاتے ہیں۔ یہی وجہ سے کہ اس نقصان سے دل کام کرنا بند کر سکتا ہے، معذوری ہو سکتی ہے یا معیار زندگی متاثر ہوسکتا ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹیم کا کہنا تھا کہ اس دوا کے لیے انفنسا بائیوسائنس کو نجی سرمایہ کاروں سے ابتدائی فنڈنگ کے طور ہر دو کروڑ 30 لاکھ آسٹریلیوی ڈالر موصول ہوئے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوا کو آسٹریلیا کی زہریلی ترین مکڑی سے بنایا جاتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوا کا فی الحال نام آئی بی 001 ہے اور یہ ان سگنلز کو روکتی ہے جس کے نتیجے میں دل کے دورے یا سٹروک کی صورت میں دل کے خلیے مر جاتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ علاج خاص طور پر آسٹریلیا کے دیہی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے کارآمد ہوسکتا ہے۔ کیونکہ انہیں سٹروک یا دل کے دورے کی صورت میں قریبی ہسپتال تک جانے کے لیے بھی گھنٹوں کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونیورسٹی آف کوینز لینڈ کے محقق نیتھن پلپینٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈاکٹرز کے پاس ایسی کوئی دوا نہیں جو دل کے دورے کی صورت میں ہونے والے نقصان کو روک سکے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سڈنی: آسٹریلیا میں محققین کی ایک ٹیم نے مکڑی کے زہر سے دل کے دورے کا علاج دریافت کیا ہے اور اب اس جان بچانے والے نسخے کو ایک مقامی کمپنی کے ذریعے مارکیٹ میں لانے کی کوشش کررہی ہے۔</strong> </p>

<p>یونیورسٹی آف کوینزلینڈ کے مرکزی محقق اور برسبن کی کمپنی انفنسا بائیوسائنس کے سی ای او ایسوسی ایٹ پروفیسر مارک سمائتھ کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں پہلی دوا ہوگی جو دل کے دورے یا سٹروک کے نتیجے میں ہونے والے خلیوں کے نقصان کو روکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ </p>

<p>"دل وہ خلیے دوبارہ نہیں بنا سکتا جو دل کے دورے کے وقت مر جاتے ہیں۔ یہی وجہ سے کہ اس نقصان سے دل کام کرنا بند کر سکتا ہے، معذوری ہو سکتی ہے یا معیار زندگی متاثر ہوسکتا ہے۔‘</p>

<p>ٹیم کا کہنا تھا کہ اس دوا کے لیے انفنسا بائیوسائنس کو نجی سرمایہ کاروں سے ابتدائی فنڈنگ کے طور ہر دو کروڑ 30 لاکھ آسٹریلیوی ڈالر موصول ہوئے ہیں۔ </p>

<p>اس دوا کو آسٹریلیا کی زہریلی ترین مکڑی سے بنایا جاتا ہے۔ </p>

<p>اس دوا کا فی الحال نام آئی بی 001 ہے اور یہ ان سگنلز کو روکتی ہے جس کے نتیجے میں دل کے دورے یا سٹروک کی صورت میں دل کے خلیے مر جاتے ہیں۔ </p>

<p>یہ علاج خاص طور پر آسٹریلیا کے دیہی علاقوں کے رہائشیوں کے لیے کارآمد ہوسکتا ہے۔ کیونکہ انہیں سٹروک یا دل کے دورے کی صورت میں قریبی ہسپتال تک جانے کے لیے بھی گھنٹوں کی مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔</p>

<p>یونیورسٹی آف کوینز لینڈ کے محقق نیتھن پلپینٹ کا کہنا ہے کہ اس وقت ڈاکٹرز کے پاس ایسی کوئی دوا نہیں جو دل کے دورے کی صورت میں ہونے والے نقصان کو روک سکے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30291629</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Jul 2022 19:24:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
