<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 12:38:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 12:38:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حقوق نسواں کی کارکن عالمی جریدے میں 30 سال سے کم عمر ایکٹیوسٹ کی فہرست میں شامل</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30288233/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پشاور: خواتین اور خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی پشاور کی سماجی کارکن شوانا شاہ کو بین الااقوامی سطح پر30 سال سے کم عمر ایکٹیوسٹ کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آج نیوز کے مطابق شوانا شاہ پشاور کی باہمت خاتون اورغیرسرکاری تنظیم کی پروگرام مینجر ہیں، جن کو خواتین اور خواجہ سراؤں پر ہونے والی زیادتی کیخلاف آواز اٹھانے پر&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/30-under-30/2022/asia/social-impact?profile=shawana-shah"&gt;عالمی جریدے&lt;/a&gt; نے سراہاتے ہوئے اپنی ویب سائٹ میں 30 سال سے کم عمر ایکٹیوسٹ کی  فہرست میں شامل کرکے شائع کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/2X_2e2UtBW8" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture" allowfullscreen&gt;&lt;/iframe&gt;
&lt;p&gt;شوانا شاہ کم عمر بچیوں کی تعلیم پوری کرنے اور خواتین اور خواجہ سراوں کو الیکشن کےعمل کا حصہ بنانے کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر قانون سازی بھی کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم شوانا شاہ کا کہنا ہے کہ “ایک معاشرہ تب ہی ترقی کر سکتا ہے، جب معاشرے کے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور مواقع میسر ہوں”۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مارچ 2021 سے مارچ 2022 تک 9 خواجہ سراء قتل کئے جاچکے ہیں جبکہ خواجہ سراؤں پر تشدد کے 700 سے زائد واقعات پیش آئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ زیادہ تر واقعات میں اپنے آشنا ہی ان کو قتل کرتے ہیں، اکثر پیسوں کا تنازعہ یا عشق کا چکر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پشاور: خواتین اور خواجہ سراؤں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی پشاور کی سماجی کارکن شوانا شاہ کو بین الااقوامی سطح پر30 سال سے کم عمر ایکٹیوسٹ کی فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>آج نیوز کے مطابق شوانا شاہ پشاور کی باہمت خاتون اورغیرسرکاری تنظیم کی پروگرام مینجر ہیں، جن کو خواتین اور خواجہ سراؤں پر ہونے والی زیادتی کیخلاف آواز اٹھانے پر<a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.forbes.com/30-under-30/2022/asia/social-impact?profile=shawana-shah">عالمی جریدے</a> نے سراہاتے ہوئے اپنی ویب سائٹ میں 30 سال سے کم عمر ایکٹیوسٹ کی  فہرست میں شامل کرکے شائع کیا ہے۔</p>
<iframe width="560" height="315" src="https://www.youtube.com/embed/2X_2e2UtBW8" title="YouTube video player" frameborder="0" allow="accelerometer; autoplay; clipboard-write; encrypted-media; gyroscope; picture-in-picture" allowfullscreen></iframe>
<p>شوانا شاہ کم عمر بچیوں کی تعلیم پوری کرنے اور خواتین اور خواجہ سراوں کو الیکشن کےعمل کا حصہ بنانے کیلئے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر قانون سازی بھی کرتی ہیں۔</p>
<p>تاہم شوانا شاہ کا کہنا ہے کہ “ایک معاشرہ تب ہی ترقی کر سکتا ہے، جب معاشرے کے تمام شہریوں کو برابر کے حقوق اور مواقع میسر ہوں”۔</p>
<p>اس کے علاوہ مارچ 2021 سے مارچ 2022 تک 9 خواجہ سراء قتل کئے جاچکے ہیں جبکہ خواجہ سراؤں پر تشدد کے 700 سے زائد واقعات پیش آئے ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ زیادہ تر واقعات میں اپنے آشنا ہی ان کو قتل کرتے ہیں، اکثر پیسوں کا تنازعہ یا عشق کا چکر ہوتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30288233</guid>
      <pubDate>Mon, 06 Jun 2022 14:21:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
