<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 22:23:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 22:23:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ سنبھال لیا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30285551/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:ڈاکٹر مرتضیٰ سید نےقائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ سنبھال لیا،رضا باقر کی بطور گورنر اسٹیٹ بینک مدت 4 مئی کو ختم ہوئی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینئر ترین ڈپٹی گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک مقرر ہوگئے، وفاقی حکومت نے مرتضیٰ سید کو 27 جنوری 2020 کو 3 سال کیلئے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک مقرر کیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹرمرتضیٰ سیدمیکرو اکنامک ریسرچ اور  پالیسی سازی میں 20سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں،انہوں نے 16سال تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں کام کیاپھر استعفا دے کر اسٹیٹ بینک جوائن کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایم ایف میں وہ یورو خطے جاپان اور کوریا سمیت ابھرتی ہوئی منڈیوں اورترقی یافتہ معیشتوں میں آئی ایم ایف پروگرامز اور سرویلنس میں شریک رہے،ساتھ ہی دنیا بھر میں آئی ایم ایف ٹریننگ اور تکنیکی تعاون کی نگرانی کرتے رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مرتضیٰ سیدنے 2010سے 2014کے دوران چین میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی ریزیڈنٹ نمائندےکے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹرمرتضیٰ سید نے اپنا کیرئیر 1990کی دہائی کے اواخر میں اسلام آباد میں قائم ہیومن ڈویلپمنٹ سینٹر میں پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق کے ساتھ بطور سینئر پالیسی انالسٹ شروع کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے لندن کے پبلک پالیسی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار فسکل اسٹڈیز میں کام کیا،ڈاکٹر مرتضیٰ سید آکسفورڈ یونیورسٹی کے نوفیلڈ کالج سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی سند رکھتے ہیں،وہ میکرواکنامک، مالیاتی اور زری پالیسی مالی استحکام، معاشی بحرانوں، سرمایہ کاری،آبادیات، غربت اور عدم مساوات پر مقالے شائع کراچکےہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹیز میں پبلک پالیسی پر لیکچرز بھی دیئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد:ڈاکٹر مرتضیٰ سید نےقائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک کا عہدہ سنبھال لیا،رضا باقر کی بطور گورنر اسٹیٹ بینک مدت 4 مئی کو ختم ہوئی تھی۔</strong></p>

<p>سینئر ترین ڈپٹی گورنر ڈاکٹر مرتضیٰ سید قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک مقرر ہوگئے، وفاقی حکومت نے مرتضیٰ سید کو 27 جنوری 2020 کو 3 سال کیلئے ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک مقرر کیا تھا۔ </p>

<p>ڈاکٹرمرتضیٰ سیدمیکرو اکنامک ریسرچ اور  پالیسی سازی میں 20سال سے زائد کا تجربہ رکھتے ہیں،انہوں نے 16سال تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں کام کیاپھر استعفا دے کر اسٹیٹ بینک جوائن کیا۔</p>

<p>آئی ایم ایف میں وہ یورو خطے جاپان اور کوریا سمیت ابھرتی ہوئی منڈیوں اورترقی یافتہ معیشتوں میں آئی ایم ایف پروگرامز اور سرویلنس میں شریک رہے،ساتھ ہی دنیا بھر میں آئی ایم ایف ٹریننگ اور تکنیکی تعاون کی نگرانی کرتے رہے۔</p>

<p>مرتضیٰ سیدنے 2010سے 2014کے دوران چین میں آئی ایم ایف کے ڈپٹی ریزیڈنٹ نمائندےکے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔</p>

<p>ڈاکٹرمرتضیٰ سید نے اپنا کیرئیر 1990کی دہائی کے اواخر میں اسلام آباد میں قائم ہیومن ڈویلپمنٹ سینٹر میں پاکستان کے سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر محبوب الحق کے ساتھ بطور سینئر پالیسی انالسٹ شروع کیا۔</p>

<p>انہوں نے لندن کے پبلک پالیسی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار فسکل اسٹڈیز میں کام کیا،ڈاکٹر مرتضیٰ سید آکسفورڈ یونیورسٹی کے نوفیلڈ کالج سے معاشیات میں پی ایچ ڈی کی سند رکھتے ہیں،وہ میکرواکنامک، مالیاتی اور زری پالیسی مالی استحکام، معاشی بحرانوں، سرمایہ کاری،آبادیات، غربت اور عدم مساوات پر مقالے شائع کراچکےہیں۔</p>

<p>ڈاکٹر مرتضیٰ سید نے کیمبرج اور آکسفورڈ یونیورسٹیز میں پبلک پالیسی پر لیکچرز بھی دیئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30285551</guid>
      <pubDate>Fri, 06 May 2022 11:29:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
