<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 10:38:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 10:38:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جامعہ کراچی میں خود کش دھماکہ، 3 چینی باشندے سمیت 4 افراد ہلاک
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30284853/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی: کراچی یونیورسٹی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں تین چینی باشندے سمیت 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج نیوز کے مطابق چائنیز انسٹیٹیوٹ کے قریب ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اس بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان میں چینی اساتذہ شامل ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی ہونے والے چار افراد میں ایک رینجرز اہلکار، پرائیویٹ گارڈ اور چینی شہری شامل ہیں۔ 
' ہماری ٹیکنیکل ٹیم کا کام جاری ہے۔'&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ڈائریکٹر ہانگ گوپنگ، ڈنگ میوپنگ، چن سائی اور مقامی وین ڈرائیور خالد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کنفیوشس انسٹیٹوٹ نے سیکورٹی خدشات سے جامعہ انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا۔ فیکلٹی &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ممبرز کی سیکورٹی کے لیے انسٹیٹوٹ نے جامعہ کراچی کو خطوط لکھے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انسٹیٹوٹ کی انتظامیہ نے اضافی سیکورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '&gt;            &lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/aajtv0/videos/318783107034815/?sfnsn=mo" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			دھماکہ ایک وین میں ہوا ہے جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی، جبکہ رینجرز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی میں 'پہلی خاتون خود کش حملہ آور'؟&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صحافی عباس نقوی کا کہنا ہے کہ 90 کی دہائی میں ایم اے جناح روڈ پر، نمائش کے پاس، نوائے وقت کے دفتر میں ایک بم رکھا گیا تھا۔ اس میں ایک بنگالن عورت تھی لیکن وہ خود کش حملہ آور نہیں تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ اس کو دھوکے سے خالی سامان اندر پہنچانے دیا گیا تھا۔ وہ سامان لے کر گئی اور اس دوران دھماکہ ہوگیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;'میرے حساب سے یہ پہلی خود کش حملہ آور قرار دی گئی خاتون ہے اور جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔ تو کراچی کی پہلی ہے۔'&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی: کراچی یونیورسٹی میں کنفیوشس انسٹی ٹیوٹ کے قریب ہونے والے خودکش دھماکے میں تین چینی باشندے سمیت 4 افراد ہلاک ہوئے ہیں</strong></p>

<p>آج نیوز کے مطابق چائنیز انسٹیٹیوٹ کے قریب ہوا۔</p>

<p>ایڈیشنل آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے اس بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ہلاک ہونے والوں کی تصدیق کی اور بتایا کہ ان میں چینی اساتذہ شامل ہیں۔ </p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ زخمی ہونے والے چار افراد میں ایک رینجرز اہلکار، پرائیویٹ گارڈ اور چینی شہری شامل ہیں۔ 
' ہماری ٹیکنیکل ٹیم کا کام جاری ہے۔'</p>

<p>پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ڈائریکٹر ہانگ گوپنگ، ڈنگ میوپنگ، چن سائی اور مقامی وین ڈرائیور خالد شامل ہیں۔</p>

<p>آج نیوز کے مطابق جامعہ کراچی کنفیوشس انسٹیٹوٹ نے سیکورٹی خدشات سے جامعہ انتظامیہ کو آگاہ کیا تھا۔ فیکلٹی </p>

<p>ممبرز کی سیکورٹی کے لیے انسٹیٹوٹ نے جامعہ کراچی کو خطوط لکھے تھے۔</p>

<p>انسٹیٹوٹ کی انتظامیہ نے اضافی سیکورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی تھی۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item  media__item--relative  media__item--facebook  '>            <div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/aajtv0/videos/318783107034815/?sfnsn=mo" data-width="auto"></div></div>
				
			</figure>
<p>			دھماکہ ایک وین میں ہوا ہے جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی، جبکہ رینجرز اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔</p>

<p><strong>کراچی میں 'پہلی خاتون خود کش حملہ آور'؟</strong></p>

<p>صحافی عباس نقوی کا کہنا ہے کہ 90 کی دہائی میں ایم اے جناح روڈ پر، نمائش کے پاس، نوائے وقت کے دفتر میں ایک بم رکھا گیا تھا۔ اس میں ایک بنگالن عورت تھی لیکن وہ خود کش حملہ آور نہیں تھی۔ </p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ اس کو دھوکے سے خالی سامان اندر پہنچانے دیا گیا تھا۔ وہ سامان لے کر گئی اور اس دوران دھماکہ ہوگیا تھا۔ </p>

<p>'میرے حساب سے یہ پہلی خود کش حملہ آور قرار دی گئی خاتون ہے اور جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی ہے۔ تو کراچی کی پہلی ہے۔'</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30284853</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Apr 2022 20:14:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
