<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 12:56:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 12:56:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2 سال بعد مائیکل رتنی سعودی عرب میں امریکا کے نئے سفیر مقرر
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30284664/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی صدر جوبائیڈن نے مائیکل رتنی کو 2 سال بعد سعودی عرب میں امریکا کا نیا سفیر نامزد کردیا ہے. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عرب &lt;a href="https://english.alarabiya.net/News/gulf/2022/04/23/Michael-Ratney-tapped-to-be-next-US-ambassador-to-Saudi-Arabia-White-House"&gt;میڈیا&lt;/a&gt; کے مطابق رتنی اس وقت اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ کے قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ وہ حال ہی میں یروشلم میں امریکی سفارت خانے میں چارج ڈی افیئرز تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل مائیکل رتنی قطر میں امریکی سفارت خانے میں ڈپٹی چیف آف مشن کے ساتھ ساتھ لیونٹ اور اسرائیل اور فلسطینی امور کے لیے قائم مقام ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیا کے مطابق مائیکل رتنی کو عربی اور فرانسیسیزبان پر بھی عبور حاصل ہے. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد ررہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2 سال تک سعودی عرب میں امریکا کا کوئی سفیر نہیں تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹرمپ نے جان ابی زید کو ایلچی کے لیے منتخب کیا تھا جبکہ جنوری 2021 میں ان کے جانے کے بعد سے یہ عہدہ خالی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ریاض کو ہتھیاروں کی فروخت منجمد کردی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم جس کے سبب امریکا-سعودی تعلقات میں کمی آئی  تھی۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی صدر جوبائیڈن نے مائیکل رتنی کو 2 سال بعد سعودی عرب میں امریکا کا نیا سفیر نامزد کردیا ہے. </p>

<p>عرب <a href="https://english.alarabiya.net/News/gulf/2022/04/23/Michael-Ratney-tapped-to-be-next-US-ambassador-to-Saudi-Arabia-White-House">میڈیا</a> کے مطابق رتنی اس وقت اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے فارن سروس انسٹی ٹیوٹ کے قائم مقام ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں جبکہ وہ حال ہی میں یروشلم میں امریکی سفارت خانے میں چارج ڈی افیئرز تھے۔</p>

<p>اس سے قبل مائیکل رتنی قطر میں امریکی سفارت خانے میں ڈپٹی چیف آف مشن کے ساتھ ساتھ لیونٹ اور اسرائیل اور فلسطینی امور کے لیے قائم مقام ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری بھی رہ چکے ہیں۔</p>

<p>میڈیا کے مطابق مائیکل رتنی کو عربی اور فرانسیسیزبان پر بھی عبور حاصل ہے. </p>

<p>یاد ررہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد 2 سال تک سعودی عرب میں امریکا کا کوئی سفیر نہیں تھا۔ </p>

<p>ٹرمپ نے جان ابی زید کو ایلچی کے لیے منتخب کیا تھا جبکہ جنوری 2021 میں ان کے جانے کے بعد سے یہ عہدہ خالی ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ بائیڈن کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ریاض کو ہتھیاروں کی فروخت منجمد کردی تھی۔ </p>

<p>تاہم جس کے سبب امریکا-سعودی تعلقات میں کمی آئی  تھی۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30284664</guid>
      <pubDate>Sun, 24 Apr 2022 12:22:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
