<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 10:57:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 10:57:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے 22 یوٹیوب چینلز بند کردیے، 4 پاکستانی چینلز شامل
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30283143/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی حکومت نے 22 یوٹیوب چینلز پر پابندی لگا دی ہے، جن میں 4 پاکستانی چینلز بھی شامل ہیں. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیا &lt;a href="https://tribune.com.pk/story/2351124/four-pakistani-youtube-channels-among-22-blocked-by-india-over-security-fears"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق بھارتی قومی سلامتی اور امن عامہ سے متعلق موضوعات پر "غلط معلومات" پھیلانے پر پابندی عائد کی ہے.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ملک کی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کے مجموعی طور پر 2.6 بلین ناظرین تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دریں اثنا حکومت نے ہندوستان کے آئی ٹی قوانین کے تحت "ہنگامی اختیارات" کا مطالبہ کیا، کہا کہ اس نے پہلی بار 18 ہندوستانی یوٹیوب چینلز کو بلاک کیا ہے تاہم پچھلے اقدامات کے ساتھ ان اکاؤنٹس پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو پڑوسی ملک پاکستان سے چلایا جاتے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بھارتی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ "متعدد یوٹیوب چینلز کا استعمال مختلف موضوعات پر جعلی خبریں پوسٹ کرنے کے لیے کیا گیا، جن میں بھارتی مسلح افواج شامل تھی"۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ بھارتی حکومت 2021 میں متعارف کرائے گئے نئے آئی ٹی قوانین کا استعمال کر رہی ہے، جن کا زیادہ تر مقصد سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ قانون کے تحت حکومت کو مواد کو ہٹانے کے لیے مزید اختیارات دیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی حکومت نے 22 یوٹیوب چینلز پر پابندی لگا دی ہے، جن میں 4 پاکستانی چینلز بھی شامل ہیں. </p>

<p>میڈیا <a href="https://tribune.com.pk/story/2351124/four-pakistani-youtube-channels-among-22-blocked-by-india-over-security-fears">رپورٹ</a> کے مطابق بھارتی قومی سلامتی اور امن عامہ سے متعلق موضوعات پر "غلط معلومات" پھیلانے پر پابندی عائد کی ہے.</p>

<p>تاہم ملک کی وزارت اطلاعات و نشریات نے کہا کہ بلاک شدہ یوٹیوب چینلز کے مجموعی طور پر 2.6 بلین ناظرین تھے۔</p>

<p>دریں اثنا حکومت نے ہندوستان کے آئی ٹی قوانین کے تحت "ہنگامی اختیارات" کا مطالبہ کیا، کہا کہ اس نے پہلی بار 18 ہندوستانی یوٹیوب چینلز کو بلاک کیا ہے تاہم پچھلے اقدامات کے ساتھ ان اکاؤنٹس پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جو پڑوسی ملک پاکستان سے چلایا جاتے تھے۔ </p>

<p>بھارتی حکومت نے ایک بیان میں کہا کہ "متعدد یوٹیوب چینلز کا استعمال مختلف موضوعات پر جعلی خبریں پوسٹ کرنے کے لیے کیا گیا، جن میں بھارتی مسلح افواج شامل تھی"۔  </p>

<p>یاد رہے کہ بھارتی حکومت 2021 میں متعارف کرائے گئے نئے آئی ٹی قوانین کا استعمال کر رہی ہے، جن کا زیادہ تر مقصد سوشل میڈیا کمپنیوں کو ریگولیٹ کرنا تھا۔ </p>

<p>مذکورہ قانون کے تحت حکومت کو مواد کو ہٹانے کے لیے مزید اختیارات دیے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30283143</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Apr 2022 15:58:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
