<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 00:47:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 00:47:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لمپی اسکن وائرس بھینسوں کو بھی متاثر کرنے لگا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30282183/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سیکڑوں گائیوں کو ہلاک کرنے کے بعد لمپی اسکن وائرس کی وبا اب بھینسوں میں پائی گئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیا رپورٹ کے مطابق لمپی اسکن وائرس نے اپنے دائرے میں پھیلتے ہوئے سندھ کے مختلف شہروں میں بھینسوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کی محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سندھ نے تصدیق  کردی.&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل کراچی کے معروف طبی ادارے ڈاؤ ہسپتال نے لمپی اسکن وائرس  کو روکنے کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم یہ ویکسین ڈاؤ ہسپتال اور محکمہ لائیو سٹاک اینڈ فشریز سندھ کے اشتراک سے تیار کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید براں سندھ ٹاسک فورس کی جانب سے 23 مارچ کولمپی اسکن وائرس سے متعلق جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق متاثرہ مویشیوں کی تعداد 28 ہزار 453 ہوگئی جبکہ مرنے والے جانوروں کی تعداد بھی 238 ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ یہ بیماری خون پینے والے کیڑوں سے پھیلتی ہے، جیسے کہ مکھیوں اور مچھروں کی مخصوص اقسام ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے کہا کہ یہ وائرس افریقہ میں پایا جاتا ہے جبکہ یہ مویشیوں کا ایک وائرل انفیکشن ہے، جو مشرق وسطیٰ، ایشیا اور مشرقی یورپ کے ممالک میں بھی پھیل گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سیکڑوں گائیوں کو ہلاک کرنے کے بعد لمپی اسکن وائرس کی وبا اب بھینسوں میں پائی گئی ہے۔</strong></p>

<p>میڈیا رپورٹ کے مطابق لمپی اسکن وائرس نے اپنے دائرے میں پھیلتے ہوئے سندھ کے مختلف شہروں میں بھینسوں کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے، جس کی محکمہ لائیو اسٹاک اینڈ فشریز سندھ نے تصدیق  کردی.</p>

<p>اس سے قبل کراچی کے معروف طبی ادارے ڈاؤ ہسپتال نے لمپی اسکن وائرس  کو روکنے کے لیے ایک ویکسین تیار کرنے کا اعلان کیا تھا۔ </p>

<p>تاہم یہ ویکسین ڈاؤ ہسپتال اور محکمہ لائیو سٹاک اینڈ فشریز سندھ کے اشتراک سے تیار کی گئی۔</p>

<p>مزید براں سندھ ٹاسک فورس کی جانب سے 23 مارچ کولمپی اسکن وائرس سے متعلق جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق متاثرہ مویشیوں کی تعداد 28 ہزار 453 ہوگئی جبکہ مرنے والے جانوروں کی تعداد بھی 238 ہو گئی ہے۔</p>

<p>اس کے علاوہ یہ بیماری خون پینے والے کیڑوں سے پھیلتی ہے، جیسے کہ مکھیوں اور مچھروں کی مخصوص اقسام ہیں۔</p>

<p>ماہرین نے کہا کہ یہ وائرس افریقہ میں پایا جاتا ہے جبکہ یہ مویشیوں کا ایک وائرل انفیکشن ہے، جو مشرق وسطیٰ، ایشیا اور مشرقی یورپ کے ممالک میں بھی پھیل گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30282183</guid>
      <pubDate>Sat, 26 Mar 2022 10:46:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
