<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 12:13:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 12:13:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فائز عیسیٰ کا صدارتی ریفرنس سے متعلق بنچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30281951/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کوخط لکھ کر صدارتی ریفرنس سے متعلق بنچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کردیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خط میں سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، بینچ تشکیل پر سینئرترین ججز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اورنہ ہی لارجر بینچ میں سینئرججوں کو شامل کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس قاضی فائز عیسی نے خط میں کہا کہ بینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالونہیں کیا گیا، بینچ میں چوتھے،آٹھویں اور تیرویں نمبر پر شامل ججوں کو شامل کیا گیا، اہم قانونی اورآئینی سوالات ہوں، تو سینئرججوں کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;    &lt;span&gt;
        &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
            &lt;a href="https://twitter.com/QayyumReports/status/1506536929256304645?s=20&amp;amp;t=uIeEyhjxGamWX9e5oJqqvw"&gt;&lt;/a&gt;
        &lt;/blockquote&gt;
    &lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس قاضی فائزعیسیٰ  خط میں کہا کہ سپریم کورٹ نے بارکی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقررکرنے کا حکم دیا جو ایک ساتھ نہیں سنا جاسکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سپریم کورٹ بار کی درخواست آرٹیکل 184 تین کے تحت دائرکی گئی جبکہ صدارتی ریفرنس مشاورتی دائرہ اختیار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس قاضی فائزنے سول سرونٹ کی بطوررجسٹرار تقرری پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے خلاف آئین قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم خط کی نقول سپریم کورٹ ججز،اٹارنی جنرل، صدرسپریم کورٹ بار اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی بھیجیں ہیں۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کوخط لکھ کر صدارتی ریفرنس سے متعلق بنچ کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار کردیا۔</strong></p>

<p>خط میں سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدارتی ریفرنس پر پوری قوم کی نظریں ہیں، بینچ تشکیل پر سینئرترین ججز سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی اورنہ ہی لارجر بینچ میں سینئرججوں کو شامل کیا گیا۔</p>

<p>جسٹس قاضی فائز عیسی نے خط میں کہا کہ بینچ کی تشکیل سے پہلے رولز کو فالونہیں کیا گیا، بینچ میں چوتھے،آٹھویں اور تیرویں نمبر پر شامل ججوں کو شامل کیا گیا، اہم قانونی اورآئینی سوالات ہوں، تو سینئرججوں کو بینچ میں شامل ہونا چاہیے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>    <span>
        <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
            <a href="https://twitter.com/QayyumReports/status/1506536929256304645?s=20&amp;t=uIeEyhjxGamWX9e5oJqqvw"></a>
        </blockquote>
    </span></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>جسٹس قاضی فائزعیسیٰ  خط میں کہا کہ سپریم کورٹ نے بارکی درخواست اور صدارتی ریفرنس ایک ساتھ سماعت کیلئے مقررکرنے کا حکم دیا جو ایک ساتھ نہیں سنا جاسکتا۔</p>

<p>سپریم کورٹ بار کی درخواست آرٹیکل 184 تین کے تحت دائرکی گئی جبکہ صدارتی ریفرنس مشاورتی دائرہ اختیار ہے۔</p>

<p>جسٹس قاضی فائزنے سول سرونٹ کی بطوررجسٹرار تقرری پر اعتراض اٹھاتے ہوئے اسے خلاف آئین قرار دیا۔</p>

<p>تاہم خط کی نقول سپریم کورٹ ججز،اٹارنی جنرل، صدرسپریم کورٹ بار اور تمام صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی بھیجیں ہیں۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30281951</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Mar 2022 15:23:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
