<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 05:17:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 05:17:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وحشیانہ طریقے سے بیوی کو قتل کرنے پر سعودی شہری کو سزائے موت
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30281404/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ریاض: سعودی عرب کے مشرقی حصے کے مقامی حکام نے بیوی کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے کا الزام ثابت ہوجانے پر سعودی شہری کو موت کی سزا سنا دی۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت داخلہ نے بیان میں کہا ہے کہ سعودی شہری مھند بن علی بن ابراہیم العسیری نے لیبیا سے تعلق رکھنے والی اپنی بیوی رحاب علی محمد الھمالی کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرکے اس کے ٹکڑے کردیئے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ملزم قتل کرنے کے بعد فرار ہوگیا تھا جبکہ پولیس نے گرفتارکرکے اسے دمام کی فوجداری عدالت کے حوالے کردیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دریں اثنا عدالت نے ملزم پر قتل کا الزام ثابت ہوجانے پر موت کی سزا سنادی تھی جبکہ اس کی توثیق پہلے اپیل کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کی جانب سے کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ شاہی ایوان نےعدالتی فیصلے پر عمل درآمد  کا شاہی فرمان جاری کیا بعد ازاں  فیصلے پر عملدرآمد کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ریاض: سعودی عرب کے مشرقی حصے کے مقامی حکام نے بیوی کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنے کا الزام ثابت ہوجانے پر سعودی شہری کو موت کی سزا سنا دی۔</strong> </p>

<p>سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق وزارت داخلہ نے بیان میں کہا ہے کہ سعودی شہری مھند بن علی بن ابراہیم العسیری نے لیبیا سے تعلق رکھنے والی اپنی بیوی رحاب علی محمد الھمالی کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرکے اس کے ٹکڑے کردیئے تھے۔ </p>

<p>تاہم ملزم قتل کرنے کے بعد فرار ہوگیا تھا جبکہ پولیس نے گرفتارکرکے اسے دمام کی فوجداری عدالت کے حوالے کردیا تھا۔ </p>

<p>دریں اثنا عدالت نے ملزم پر قتل کا الزام ثابت ہوجانے پر موت کی سزا سنادی تھی جبکہ اس کی توثیق پہلے اپیل کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کی جانب سے کی گئی تھی۔</p>

<p>خیال رہے کہ شاہی ایوان نےعدالتی فیصلے پر عمل درآمد  کا شاہی فرمان جاری کیا بعد ازاں  فیصلے پر عملدرآمد کردیا گیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30281404</guid>
      <pubDate>Thu, 17 Mar 2022 13:05:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
