<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 00:47:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 00:47:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ میں 120 مویشی لمپی اسکن بیماری سے مرگئے
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30280968/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مویشی باڑوں میں متعدد جانوروں میں پھیلنے والی خطرناک بیماری لمپی اسکن سے سندھ میں 120 جانور مرگئے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سندھ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نذیر کولہوڑو نے &lt;a href="https://www.samaaenglish.tv/living/health/2022/03/lumpy-skin-disease-not-transmittable-through-meat-milk-consumption-akuh/"&gt;میڈیا&lt;/a&gt; کو بتایا ہے کہ جلد کی بیماری  لمپی اسکن نے صوبے میں 22 ہزار جانوروں کو متاثر کیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر نذیر کولہوڑو نے کہا کہ اب تک صرف 120 جانور اس بیماری سے مر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈائریکٹر جنرل سندھ لائیو اسٹاک نے کہا کہ حکومت نے جلد کے امراض کی ویکسین کے لیے 4 کمپنیوں سے رابطہ کیا اور ان کمپنیوں کو رجسٹر کرنے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو بھی لکھا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم انہوں نے مزید کہا کہ دستاویزات کا عمل جاری ہے اور امید ہے کہ ایک ہفتے کے اندر ویکسین دستیاب ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ یاد رہے کہ 9 مارچ کو وزیر لائیو اسٹاک سندھ عبدالباری پتافی نے  آگاہ کیا تھا کہ لمپی اسکن ڈیزیز (ایل ایس ڈی) خطرناک بیماری ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مویشی باڑوں میں متعدد جانوروں میں پھیلنے والی خطرناک بیماری لمپی اسکن سے سندھ میں 120 جانور مرگئے۔</strong> </p>

<p>سندھ لائیو اسٹاک کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر نذیر کولہوڑو نے <a href="https://www.samaaenglish.tv/living/health/2022/03/lumpy-skin-disease-not-transmittable-through-meat-milk-consumption-akuh/">میڈیا</a> کو بتایا ہے کہ جلد کی بیماری  لمپی اسکن نے صوبے میں 22 ہزار جانوروں کو متاثر کیا ہے۔ </p>

<p>ڈاکٹر نذیر کولہوڑو نے کہا کہ اب تک صرف 120 جانور اس بیماری سے مر چکے ہیں۔</p>

<p>ڈائریکٹر جنرل سندھ لائیو اسٹاک نے کہا کہ حکومت نے جلد کے امراض کی ویکسین کے لیے 4 کمپنیوں سے رابطہ کیا اور ان کمپنیوں کو رجسٹر کرنے کے لیے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان کو بھی لکھا ہے۔</p>

<p>تاہم انہوں نے مزید کہا کہ دستاویزات کا عمل جاری ہے اور امید ہے کہ ایک ہفتے کے اندر ویکسین دستیاب ہو جائے گی۔</p>

<p>خیال رہے کہ یاد رہے کہ 9 مارچ کو وزیر لائیو اسٹاک سندھ عبدالباری پتافی نے  آگاہ کیا تھا کہ لمپی اسکن ڈیزیز (ایل ایس ڈی) خطرناک بیماری ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30280968</guid>
      <pubDate>Sat, 12 Mar 2022 13:47:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
