<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 13:09:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 13:09:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جامعہ کراچی میں پہلی خاتون  قائم مقام وائس چانسلر تعینات
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30280011/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جامعہ کراچی کی تاریخ میں1951 کے بعد پہلی بار کسی خاتون کو تعلیمی ادارے کی قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سندھ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ  کے  جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے 26 جنوری کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے فیکلٹی آف سائنس کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون کو عبوری انتظام کے طور پر جامعہ کراچی کا قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2022-03-01/1056426_1421141_NAKA_updates.jpg"  alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی ثنا میں گزشتہ ماہ عدالت نے سیکریٹری برائے یونیورسٹیز بورڈز کو ایک ہفتے کے اندر تعمیل رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت کی ہدایت کے مطابق ایک قائم مقام وائس چانسلر کی تقرری اور سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے جامعہ کراچی  کو 10 پروفیسرز کے نام آگے بھیجنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت بھی دی تھی، جو یونیورسٹی کی سنیارٹی لسٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کی جائے تاکہ ان میں سے ایک کو قائم مقام وائس چانسلر کے طور پر نامزد کیا جا سکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم سنیارٹی لسٹ کے مطابق تمام ٹاپ فیکلٹی ممبران میں خواتین شامل ہیں، جن میں ناصرہ خاتون کا پہلا نمبر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مرتب کردہ فہرست میں ناصرہ خاتون، ثمینہ بانو، شگفتہ شہزادی، نصرت ادریس، شائستہ تبسم، مسرت جہاں یوسف، انجم پروین، شہناز داوڑ، ہاجرہ طاہر اور ریحانہ سعید کے نام شامل ہیں ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈاکٹر ناصرہ خاتون کون ہیں؟&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر ڈاکٹر ناصرہ کے کیرئیر پر نطر ڈالیں تو انہوں نے 1994 میں جامعہ کراچی کے شعبہ زولوجی سے پیراسیٹولوجی میں پی ایچ ڈی کی تھی،۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل 1986 میں شعبہ زولوجی سے فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ایم ایس سی اور 1983 میں اپوا کالج برائے خواتین سے فرسٹ ڈویژن کے ساتھ بی ایس سی مکمل کیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-5/8  w-full  media--center  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.aaj.tv/medium/2022/03/621f236823d5c.jpg" srcset='https://i.aaj.tv/medium/2022/03/621f236823d5c.jpg 500w, https://i.aaj.tv/large/2022/03/621f236823d5c.jpg 700w, https://i.aaj.tv/primary/2022/03/621f236823d5c.jpg 700w' sizes='(min-width: 992px)  700px, (min-width: 768px)  700px,  500px' alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں ڈاکٹر ناصرہ خاتون 25 اکتوبر 2019 سے 3 نومبر 2020 تک شعبہ زولوجی کی چیئرپرسن رہ چکی ہیں جبکہ وہ 11 نومبر 2005 کو شعبہ زولوجی میں بطور پروفیسر تعینات ہوئیں تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل وہ یکم جنوری 2001 سے 10 نومبر 2005 تک اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جامعہ کراچی کی تاریخ میں1951 کے بعد پہلی بار کسی خاتون کو تعلیمی ادارے کی قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔</strong></p>

<p>سندھ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ  کے  جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ کے 26 جنوری کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے فیکلٹی آف سائنس کی ڈین پروفیسر ڈاکٹر ناصرہ خاتون کو عبوری انتظام کے طور پر جامعہ کراچی کا قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://jang.com.pk/assets/uploads/updates/2022-03-01/1056426_1421141_NAKA_updates.jpg"  alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسی ثنا میں گزشتہ ماہ عدالت نے سیکریٹری برائے یونیورسٹیز بورڈز کو ایک ہفتے کے اندر تعمیل رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت کی تھی۔ </p>

<p>عدالت کی ہدایت کے مطابق ایک قائم مقام وائس چانسلر کی تقرری اور سرچ کمیٹی کی تشکیل نو کے بارے میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔</p>

<p>عدالت نے جامعہ کراچی  کو 10 پروفیسرز کے نام آگے بھیجنے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت بھی دی تھی، جو یونیورسٹی کی سنیارٹی لسٹ کے مطابق وزیراعلیٰ کے سامنے پیش کی جائے تاکہ ان میں سے ایک کو قائم مقام وائس چانسلر کے طور پر نامزد کیا جا سکے۔ </p>

<p>تاہم سنیارٹی لسٹ کے مطابق تمام ٹاپ فیکلٹی ممبران میں خواتین شامل ہیں، جن میں ناصرہ خاتون کا پہلا نمبر تھا۔</p>

<p>مرتب کردہ فہرست میں ناصرہ خاتون، ثمینہ بانو، شگفتہ شہزادی، نصرت ادریس، شائستہ تبسم، مسرت جہاں یوسف، انجم پروین، شہناز داوڑ، ہاجرہ طاہر اور ریحانہ سعید کے نام شامل ہیں ۔</p>

<p><strong>ڈاکٹر ناصرہ خاتون کون ہیں؟</strong> </p>

<p>اگر ڈاکٹر ناصرہ کے کیرئیر پر نطر ڈالیں تو انہوں نے 1994 میں جامعہ کراچی کے شعبہ زولوجی سے پیراسیٹولوجی میں پی ایچ ڈی کی تھی،۔</p>

<p>اس سے قبل 1986 میں شعبہ زولوجی سے فرسٹ ڈویژن کے ساتھ ایم ایس سی اور 1983 میں اپوا کالج برائے خواتین سے فرسٹ ڈویژن کے ساتھ بی ایس سی مکمل کیا تھا۔ </p>

<figure class='media  sm:w-5/8  w-full  media--center  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.aaj.tv/medium/2022/03/621f236823d5c.jpg" srcset='https://i.aaj.tv/medium/2022/03/621f236823d5c.jpg 500w, https://i.aaj.tv/large/2022/03/621f236823d5c.jpg 700w, https://i.aaj.tv/primary/2022/03/621f236823d5c.jpg 700w' sizes='(min-width: 992px)  700px, (min-width: 768px)  700px,  500px' alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بعد ازاں ڈاکٹر ناصرہ خاتون 25 اکتوبر 2019 سے 3 نومبر 2020 تک شعبہ زولوجی کی چیئرپرسن رہ چکی ہیں جبکہ وہ 11 نومبر 2005 کو شعبہ زولوجی میں بطور پروفیسر تعینات ہوئیں تھیں۔</p>

<p>اس سے قبل وہ یکم جنوری 2001 سے 10 نومبر 2005 تک اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30280011</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Mar 2022 13:26:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
