<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 10:34:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 10:34:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انسانی تھوک کے ٹیسٹ سے کینسر سمیت کئی بیماریوں کا پتہ لگ سکتا ہے، تحقیق
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30278192/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے منہ کے لعاب (تھوُک) کے ٹیسٹ سے کئی بیماریوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ نے بتایا کہ  انسانی تھوک میں یورک ایسڈ کی مقدار کا جائزہ لیا درجن بھر بیماریوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جن میں ذیابیطس سے لیکر نسیان اور کینسر شامل ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ 1 انسان روزانہ 2 لٹر تھوک پیدا کرتا ہے اور یہ 99 فیصد پانی پر مشتمل ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے مزید بتایا کہ اس میں 700 خوردبینی اجزاء اور مرکبات جیسا کہ یورک ایسڈ ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے منہ کے لعاب (تھوُک) کے ٹیسٹ سے کئی بیماریوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔</strong> </p>

<p>غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ نے بتایا کہ  انسانی تھوک میں یورک ایسڈ کی مقدار کا جائزہ لیا درجن بھر بیماریوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے جن میں ذیابیطس سے لیکر نسیان اور کینسر شامل ہیں۔ </p>

<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ 1 انسان روزانہ 2 لٹر تھوک پیدا کرتا ہے اور یہ 99 فیصد پانی پر مشتمل ہوتی ہے۔</p>

<p>ماہرین نے مزید بتایا کہ اس میں 700 خوردبینی اجزاء اور مرکبات جیسا کہ یورک ایسڈ ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30278192</guid>
      <pubDate>Wed, 09 Feb 2022 15:48:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
