<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 01:20:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 01:20:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ابراج کے بانی عارف نقوی پر  136 ملین ڈالر جرمانہ عائد
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30277092/</link>
      <description>&lt;p&gt;دبئی کے مالیاتی ریگولیٹر نے ابراج گروپ کے بانی پر تقریباً 136 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جبکہ فرم کے حوالے سے "سنگین ناکامیوں" کی وجہ سے امارات کے مالیاتی مرکز سے ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی (DFSA) نے کہا کہ عارف نقوی نے ان نتائج سے اختلاف کیا ہے اور یہ کہ فریقین اب اپنے کیس فنانشل مارکیٹ ٹریبونل (FMT) کے سامنے پیش کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی ایف ایس اے نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ ایف ایم ٹی کے فیصلے تک مالی جرمانے پر روک رہے گی، جبکہ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) کی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی ایف ایس اے  نے کہا کہ نقوی "جان بوجھ کر سرمایہ کاروں کو ان کے فنڈز کے غلط استعمال پر ابراج انویسٹمنٹ لمیٹڈ (AIML) کے ذریعے گمراہ کرنے میں ملوث تھا، جو کہ کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ فرم ہے جو DFSA کے ذریعہ مجاز نہیں ہے"۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی ایف ایس اے نے ابراج کے سابق ایگزیکٹیو وقار صدیق پر 1.2 ملین ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا اور ان پر ڈی آئی ایف سی سے پابندی لگا دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات مالیاتی جرائم کے حوالے سے ضوابط کو سخت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دبئی کے مالیاتی ریگولیٹر نے ابراج گروپ کے بانی پر تقریباً 136 ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کردیا۔</p>

<p>جبکہ فرم کے حوالے سے "سنگین ناکامیوں" کی وجہ سے امارات کے مالیاتی مرکز سے ان پر پابندی عائد کر دی ہے۔</p>

<p>دبئی فنانشل سروسز اتھارٹی (DFSA) نے کہا کہ عارف نقوی نے ان نتائج سے اختلاف کیا ہے اور یہ کہ فریقین اب اپنے کیس فنانشل مارکیٹ ٹریبونل (FMT) کے سامنے پیش کریں گے۔</p>

<p>ڈی ایف ایس اے نے اپنی ویب سائٹ پر ایک بیان میں کہا کہ ایف ایم ٹی کے فیصلے تک مالی جرمانے پر روک رہے گی، جبکہ دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر (DIFC) کی سرگرمیوں پر پابندی برقرار رہے گی۔</p>

<p>ڈی ایف ایس اے  نے کہا کہ نقوی "جان بوجھ کر سرمایہ کاروں کو ان کے فنڈز کے غلط استعمال پر ابراج انویسٹمنٹ لمیٹڈ (AIML) کے ذریعے گمراہ کرنے میں ملوث تھا، جو کہ کیمن آئی لینڈز میں رجسٹرڈ فرم ہے جو DFSA کے ذریعہ مجاز نہیں ہے"۔</p>

<p>ڈی ایف ایس اے نے ابراج کے سابق ایگزیکٹیو وقار صدیق پر 1.2 ملین ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا اور ان پر ڈی آئی ایف سی سے پابندی لگا دی۔</p>

<p>حالیہ برسوں میں متحدہ عرب امارات مالیاتی جرائم کے حوالے سے ضوابط کو سخت کر رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30277092</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Jan 2022 16:55:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
