<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 14:22:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 14:22:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آسٹریلوی مسلمان خاتون فٹبالر مذہبی وجوہات پر پرائیڈ میچ سے دستبردار
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30277079/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میلبرن: آسٹریلین فٹبال لیگ کی پہلی مسلمان خاتون کھلاڑی حنین زیریکا نے کہا ہے کہ وہ اس سال کا پرائیڈ راؤنڈ نہیں کھیلیں گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق حنین زیریکا نے مذہبی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے LGBTQi حقوق کی آگاہی کیلئے بنایا گیا جمپر نہیں پہننا چاہتی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حنین زیریکا ویسٹرن بلڈوگس کے خلاف اپنی جائنٹس ٹیم کی نمائندگی نہیں کریں گی جس میں ٹیمیں خصوصی جمپر پہن کر LGBTQi حقوق کا جشن منائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق 75 سے 80 فیصد کے درمیان AFLW مقابلہ LGBTQI ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زیریکا نے اپنے ساتھیوں کو اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور اخبار نے لکھا کہ انہوں نے اسے قبول کر لیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ وہ ذاتی سطح پر ان کی حمایت کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زیریکا نے گزشتہ سال پرائیڈ راؤنڈ میں کھیلا تھا لیکن گزشتہ سال کسی کو خصوصی جمپر پہننے کی ضرورت نہیں تھی۔
 برطانوی ٹیبلوئڈ نے کہا کہ وہ کسی بھی پروموشنل مواد میں شامل نہیں ہوں گی جو ٹیموں کو ایک ہی جمپر میں دیکھتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عادل سلمان جو وکٹوریہ کی اسلامک کونسل کے سربراہ ہیں، نے دی ایج کو بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ اے ایف ایل جامع ہے اور تمام خیالات کا احترام کرتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی مختلف ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایج کی رپورٹ کے مطابق زیریکا اے ایف ایل ڈبلیو کی پہلی مسلمان کھلاڑی ہے جس نے 2019 میں ڈیبیو کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر زیریکا کے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Horace_P_McFart/status/1486567704316182533?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بہت سے لوگوں نے موازنہ کیا کہ میڈیا اس کے فیصلے کی حمایت کیسے کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/fahad_s_ali/status/1486586464716484611?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میلبرن: آسٹریلین فٹبال لیگ کی پہلی مسلمان خاتون کھلاڑی حنین زیریکا نے کہا ہے کہ وہ اس سال کا پرائیڈ راؤنڈ نہیں کھیلیں گی۔</strong></p>

<p>تفصیلات کے مطابق حنین زیریکا نے مذہبی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے LGBTQi حقوق کی آگاہی کیلئے بنایا گیا جمپر نہیں پہننا چاہتی تھیں۔</p>

<p>حنین زیریکا ویسٹرن بلڈوگس کے خلاف اپنی جائنٹس ٹیم کی نمائندگی نہیں کریں گی جس میں ٹیمیں خصوصی جمپر پہن کر LGBTQi حقوق کا جشن منائیں گی۔</p>

<p>ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق 75 سے 80 فیصد کے درمیان AFLW مقابلہ LGBTQI ہونے کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>

<p>زیریکا نے اپنے ساتھیوں کو اپنا فیصلہ سنا دیا ہے اور اخبار نے لکھا کہ انہوں نے اسے قبول کر لیا ہے اور تسلیم کیا ہے کہ وہ ذاتی سطح پر ان کی حمایت کرتی ہے۔</p>

<p>زیریکا نے گزشتہ سال پرائیڈ راؤنڈ میں کھیلا تھا لیکن گزشتہ سال کسی کو خصوصی جمپر پہننے کی ضرورت نہیں تھی۔
 برطانوی ٹیبلوئڈ نے کہا کہ وہ کسی بھی پروموشنل مواد میں شامل نہیں ہوں گی جو ٹیموں کو ایک ہی جمپر میں دیکھتی ہے۔</p>

<p>عادل سلمان جو وکٹوریہ کی اسلامک کونسل کے سربراہ ہیں، نے دی ایج کو بتایا کہ یہ ایک پیچیدہ مسئلہ ہے کیونکہ اے ایف ایل جامع ہے اور تمام خیالات کا احترام کرتا ہے، چاہے وہ کتنا ہی مختلف ہو۔</p>

<p>ایج کی رپورٹ کے مطابق زیریکا اے ایف ایل ڈبلیو کی پہلی مسلمان کھلاڑی ہے جس نے 2019 میں ڈیبیو کیا۔</p>

<p>سوشل میڈیا پر زیریکا کے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Horace_P_McFart/status/1486567704316182533?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بہت سے لوگوں نے موازنہ کیا کہ میڈیا اس کے فیصلے کی حمایت کیسے کر رہا تھا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/fahad_s_ali/status/1486586464716484611?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30277079</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Jan 2022 15:30:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
