<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 01:04:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 01:04:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاہور ہائیکورٹ نے راوی اربن ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30276897/</link>
      <description>&lt;p&gt;لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے راوی ریورفورٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (آر آر یو ڈی پی) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منصوبے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کاشتکاروں کی جانب سے وکیل شیراز ذکا احمد رفیع عالم اور دیگر نے دائر کردہ درخواستوں میں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RUDA) کی طرف سے آر آر یو ڈی پی کے لیے اراضی کے حصول کی کارروائی کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2021 کے سیکشن 4 کو بھی غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں کہا گیا کہ مذکورہ دفعہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 144 سے متصادم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے ریمارکس دیے کہ "زرعی زمین صرف اس وقت حاصل کی جا سکتی ہے جب اس کے لیے مناسب قانونی ڈھانچہ موجود ہو لیکن آر آر یو ڈی پی کے لیے زمین حصول اراضی ایکٹ 1894 کی خلاف ورزی کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔"&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے کہا کہ لاہور اور شیخوپورہ زمین کے حصول میں قانون کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ RRUDP کا ماسٹر پلان بنیادی دستاویز ہے، اس لیے تمام اسکیمیں قانون کے مطابق ماسٹر پلان کے تحت ہونی چاہئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے کہا لہذا ماسٹر پلان میں شامل کیے بغیر کوئی بھی اسکیم غیر قانونی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ حکومت سے حاصل کی گئی رقم دو ماہ کے اندر واپس کرے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے راوی ریورفورٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (آر آر یو ڈی پی) کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے منصوبے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا۔</p>

<p>کاشتکاروں کی جانب سے وکیل شیراز ذکا احمد رفیع عالم اور دیگر نے دائر کردہ درخواستوں میں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RUDA) کی طرف سے آر آر یو ڈی پی کے لیے اراضی کے حصول کی کارروائی کے طریقہ کار کو چیلنج کیا گیا تھا۔</p>

<p>عدالت نے راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ترمیمی) آرڈیننس 2021 کے سیکشن 4 کو بھی غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا۔</p>

<p>اس میں کہا گیا کہ مذکورہ دفعہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 144 سے متصادم ہے۔</p>

<p>عدالت نے ریمارکس دیے کہ "زرعی زمین صرف اس وقت حاصل کی جا سکتی ہے جب اس کے لیے مناسب قانونی ڈھانچہ موجود ہو لیکن آر آر یو ڈی پی کے لیے زمین حصول اراضی ایکٹ 1894 کی خلاف ورزی کے ذریعے حاصل کی گئی تھی۔"</p>

<p>عدالت نے کہا کہ لاہور اور شیخوپورہ زمین کے حصول میں قانون کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے۔</p>

<p>لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ چونکہ RRUDP کا ماسٹر پلان بنیادی دستاویز ہے، اس لیے تمام اسکیمیں قانون کے مطابق ماسٹر پلان کے تحت ہونی چاہئیں۔</p>

<p>عدالت نے کہا لہذا ماسٹر پلان میں شامل کیے بغیر کوئی بھی اسکیم غیر قانونی ہے۔</p>

<p>عدالت نے اتھارٹی کو ہدایت کی کہ وہ حکومت سے حاصل کی گئی رقم دو ماہ کے اندر واپس کرے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30276897</guid>
      <pubDate>Tue, 25 Jan 2022 15:36:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
