<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 11 Apr 2026 07:16:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 11 Apr 2026 07:16:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سکھر:دو انڈس ڈولفنز کو بچا لیا گیا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30275815/</link>
      <description>&lt;p&gt;سکھر:روہڑی کینال سے دو انڈس ڈولفنز کو بچا کر دریائے سندھ میں چھوڑ دیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈپٹی کنزرویٹر آفیسر سکھر عدنان حامد کی سربراہی میں سندھ وائلڈ لائف ٹیم نے دادو، روہڑی کینال سےدو  بلائنڈ ڈولفنز کو ریسکیو کرکے دریائے سندھ میں چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق 27 سے زیادہ انڈس بلائنڈ ڈولفنز  اب بھی مختلف  نہروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریسکیو پلان کے مطابق ایک ماہ تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن میں 30 سے زائد افراد حصہ لیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محکمہ وائلڈ لائف نے سکھر بیراج پر ایک ڈولفن ریسکیو کنٹرول روم (DRCR) بھی قائم کیاگیا ہے تاکہ علاقائی نہروں میں پھنسے ہوئے  27 ڈولفنز کو بچایا جا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وائلڈ لائف نے بچاؤ کی کوششوں کو آسانی سے انجام دینے کے لیے اپنے تمام ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈس ڈولفن اکثر نہروں میں پھنس جاتی ہیں کیونکہ پانی کے یک طرفہ بہاؤ نے  دریا ئے سندھ میں ان کے داخلے کو روک دیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دریائے سندھ کی ڈولفن کو انٹرنیشنل یونین فار دی کنزرویشن آف نیچر (IUCN) نے خطرے سے دوچار قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سکھر:روہڑی کینال سے دو انڈس ڈولفنز کو بچا کر دریائے سندھ میں چھوڑ دیا گیا۔</p>

<p>ڈپٹی کنزرویٹر آفیسر سکھر عدنان حامد کی سربراہی میں سندھ وائلڈ لائف ٹیم نے دادو، روہڑی کینال سےدو  بلائنڈ ڈولفنز کو ریسکیو کرکے دریائے سندھ میں چھوڑ دیا۔</p>

<p>محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق 27 سے زیادہ انڈس بلائنڈ ڈولفنز  اب بھی مختلف  نہروں میں پھنسے ہوئے ہیں۔</p>

<p>ریسکیو پلان کے مطابق ایک ماہ تک جاری رہنے والے ریسکیو آپریشن میں 30 سے زائد افراد حصہ لیں گے۔</p>

<p>محکمہ وائلڈ لائف نے سکھر بیراج پر ایک ڈولفن ریسکیو کنٹرول روم (DRCR) بھی قائم کیاگیا ہے تاکہ علاقائی نہروں میں پھنسے ہوئے  27 ڈولفنز کو بچایا جا سکے۔</p>

<p>وائلڈ لائف نے بچاؤ کی کوششوں کو آسانی سے انجام دینے کے لیے اپنے تمام ملازمین کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی ہیں۔</p>

<p>انڈس ڈولفن اکثر نہروں میں پھنس جاتی ہیں کیونکہ پانی کے یک طرفہ بہاؤ نے  دریا ئے سندھ میں ان کے داخلے کو روک دیا ہے۔ </p>

<p>دریائے سندھ کی ڈولفن کو انٹرنیشنل یونین فار دی کنزرویشن آف نیچر (IUCN) نے خطرے سے دوچار قرار دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30275815</guid>
      <pubDate>Mon, 10 Jan 2022 16:18:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
