<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 21:56:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 21:56:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں غیر معیاری ادویات کی فروخت
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30274824/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان میں غیر معیاری اور جعلی ادویات فروخت کی جاتی ہیں جو لاکھوں قیمتی انسانی جانوں کوخطرے میں دال سکتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گذشتہ چند برسوں سے ہزاروں کی تعداد میں مارکیٹ میں جعلی ادویات کی فروخت جاری ہے جبکہ 2012 میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی بعد بھی جعلی ادویات کی فروخت نہیں رک سکی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبررساں &lt;a href="https://www.urdunews.com/node/630831"&gt;ادارے&lt;/a&gt; نے سرکاری تھنک ٹینک کی &lt;a href="https://pide.org.pk/wp-content/uploads/drug-regulatory-authority-of-pakistan-DRAP.pdf"&gt;رپوٹ&lt;/a&gt; کاحوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سال 2015 سے اب تک پاکستان میں 4 ہزار 800 سے ذائد اقسام کی ادویات غیر معیاری پائی گئیں جبکہ 454 جعلی نکلی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://www.urdunews.com/sites/default/files/pictures/July/42951/2021/24.jfif"  alt="پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم ڈریپ کے قیام کے مقاصد واضح نہیں ہیں۔ کیا اس کے قیام کا مقصد ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے یا ملک میں زیادہ اور اچھی ادویات کی فراہمی یقینی بنانا ہے" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم ڈریپ کے قیام کے مقاصد واضح نہیں ہیں۔ کیا اس کے قیام کا مقصد ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے یا ملک میں زیادہ اور اچھی ادویات کی فراہمی یقینی بنانا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی اثنا میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اپنی رپوٹ میں مزید بتایا ہے کہ تحقیق کے مطابق مارکیٹ میں  222  برانڈز کی ادویات غلط پائی گئیں  جبکہ  1710 ادویات کی وارینٹی ہی غلط دی گئی تھی. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پائیڈ کے چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے کہا  کہ "دنیا بھر میں حکومتی اداروں کی مانیٹرنگ اور جائزے کا کام تحقیق کا حصہ ہوتا ہے".&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید کہا کہ اس لیے پائیڈ نے بھی ڈریپ اور دیگرحکومتی اداروں کے کام کا جائزہ لینے کے لیے ایک سیل قائم کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان میں غیر معیاری اور جعلی ادویات فروخت کی جاتی ہیں جو لاکھوں قیمتی انسانی جانوں کوخطرے میں دال سکتی ہیں۔ </p>

<p>گذشتہ چند برسوں سے ہزاروں کی تعداد میں مارکیٹ میں جعلی ادویات کی فروخت جاری ہے جبکہ 2012 میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی بعد بھی جعلی ادویات کی فروخت نہیں رک سکی۔</p>

<p>غیر ملکی خبررساں <a href="https://www.urdunews.com/node/630831">ادارے</a> نے سرکاری تھنک ٹینک کی <a href="https://pide.org.pk/wp-content/uploads/drug-regulatory-authority-of-pakistan-DRAP.pdf">رپوٹ</a> کاحوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ سال 2015 سے اب تک پاکستان میں 4 ہزار 800 سے ذائد اقسام کی ادویات غیر معیاری پائی گئیں جبکہ 454 جعلی نکلی۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://www.urdunews.com/sites/default/files/pictures/July/42951/2021/24.jfif"  alt="پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم ڈریپ کے قیام کے مقاصد واضح نہیں ہیں۔ کیا اس کے قیام کا مقصد ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے یا ملک میں زیادہ اور اچھی ادویات کی فراہمی یقینی بنانا ہے" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پائیڈ کے وائس چانسلر ڈاکٹر ندیم ڈریپ کے قیام کے مقاصد واضح نہیں ہیں۔ کیا اس کے قیام کا مقصد ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا ہے یا ملک میں زیادہ اور اچھی ادویات کی فراہمی یقینی بنانا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسی اثنا میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اپنی رپوٹ میں مزید بتایا ہے کہ تحقیق کے مطابق مارکیٹ میں  222  برانڈز کی ادویات غلط پائی گئیں  جبکہ  1710 ادویات کی وارینٹی ہی غلط دی گئی تھی. </p>

<p>پائیڈ کے چانسلر ڈاکٹر ندیم الحق نے کہا  کہ "دنیا بھر میں حکومتی اداروں کی مانیٹرنگ اور جائزے کا کام تحقیق کا حصہ ہوتا ہے".</p>

<p>مزید کہا کہ اس لیے پائیڈ نے بھی ڈریپ اور دیگرحکومتی اداروں کے کام کا جائزہ لینے کے لیے ایک سیل قائم کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30274824</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Dec 2021 20:16:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
