<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 09:51:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 09:51:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ : 7 ہزار سےزائد بچے نمونیہ  سے جان سے چلے گئے
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30274758/</link>
      <description>&lt;p&gt;محکمہ سندھ کے مطابق جان سے جانے والے بچوں کی عمریں تقریبا 5 سال سے کم تھیں جب کہ 5 سال سے ذائد عمر  کے 46 بچے جان کی بازی ہار گئے. &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراچی سمیت سندھ بھر میں نمونیہ سے 27 ہزار 136 بچے متاثر ہوئے ہیں جن میں 5 سال سے زائد عمر کے 8 ہزار 534 بچے متاثر ہوئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نمونیہ سے متاثرین میں 40 فیصد شہری سندھ جبکہ 60 فیصد دیہی سندھ سے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محکمہ سندھ صحت نے  مزید بتایا کہ یہ وہ تمام بچے ہیں جن کو طبی سہولیات دستیاب تھیں جس وجہ سے ان کو جسٹرڈ کیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید بتایا کہ زیادہ تر بچوں کو نمونیہ کی ویکسین نہیں لگ سکی جبکہ سرکاری سطح پر پیدائش کے 14، 10، 6 ہفتے بعد 3 خوراکیں بچےکو لگائی جاتی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ نمونیہ ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>محکمہ سندھ کے مطابق جان سے جانے والے بچوں کی عمریں تقریبا 5 سال سے کم تھیں جب کہ 5 سال سے ذائد عمر  کے 46 بچے جان کی بازی ہار گئے. </p>

<p>کراچی سمیت سندھ بھر میں نمونیہ سے 27 ہزار 136 بچے متاثر ہوئے ہیں جن میں 5 سال سے زائد عمر کے 8 ہزار 534 بچے متاثر ہوئے۔ </p>

<p>نمونیہ سے متاثرین میں 40 فیصد شہری سندھ جبکہ 60 فیصد دیہی سندھ سے ہیں۔ </p>

<p>محکمہ سندھ صحت نے  مزید بتایا کہ یہ وہ تمام بچے ہیں جن کو طبی سہولیات دستیاب تھیں جس وجہ سے ان کو جسٹرڈ کیا گیا ہے۔ </p>

<p>مزید بتایا کہ زیادہ تر بچوں کو نمونیہ کی ویکسین نہیں لگ سکی جبکہ سرکاری سطح پر پیدائش کے 14، 10، 6 ہفتے بعد 3 خوراکیں بچےکو لگائی جاتی ہیں۔ </p>

<p>علاوہ ازیں ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ بچوں کی اموات کی سب سے بڑی وجہ نمونیہ ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30274758</guid>
      <pubDate>Wed, 29 Dec 2021 20:16:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
