<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 06 Apr 2026 06:11:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 06 Apr 2026 06:11:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>25 سالوں  میں پہلی بار488 صحافی جیل کی قید
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30273735/</link>
      <description>&lt;p&gt;25 سالوں  میں پہلی بار488 صحافی جیل کی قید&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے مطابق دنیا میں اس وقت 488 صحافی جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گذار رہے ہیں، 25 سالوں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب اس سال 46 صحافی قتل ہوئے جو  جو25 سالوں  کے دوران ایک سال میں قتل ہونے والے صحافیوں کی سب سے کم تعداد  ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار نے اپنی &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174107/"&gt;رپوٹ&lt;/a&gt; میں اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے  ادارے نے اپنے بیان میں کہا" آر ایس ایف نے سنہ 1995 سے تمام اعداد و شامر جمع کرنا شروع کیے تھے جب کہ اس قبل صحافیوں کو کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دریں اثنا گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال تقریبا 20 فی صد اضافہ ہوا جس کی وجہ میانمار، ہانگ کانگ اور بیلاروس میں میڈیا پر پابندیاں ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر خواتین صحافیوں کی بات کی جائے تو 60 صحافی خواتین شامل ہیں، جو گذشتہ سال کا صرف ایک تہائی بنتا ہے جب کہ آر ایس ایف نے کہا خواتین صحافیوں کو کبھی اتنی تعداد میں گرفتار نہیں کیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/12/61baf416326ae.jpg"  alt="زیر حراست صحافیوں میں 60 خواتین صحافی بھی شامل ہیں&amp;mdash; تصویر: وکیمیڈیا کامنز/ فائل" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;زیر حراست صحافیوں میں 60 خواتین صحافی بھی شامل ہیں— تصویر: وکیمیڈیا کامنز/ فائل&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درجہ بندی کے اعتبار سے اس وقت چین میں 124 صحافی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جب کہ ویتنام میں 43، بیلاروس میں 32 اور سعودی عرب میں31 صحافی قید ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ  46 صحافیوں کو قتل کیا  گیا ہے  اور رپوٹ میں کہا گیا کہ 65 صحافیوں کو باقاعدہ حدف بناکر قتل کیا ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>25 سالوں  میں پہلی بار488 صحافی جیل کی قید</p>

<p>صحافیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کے مطابق دنیا میں اس وقت 488 صحافی جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گذار رہے ہیں، 25 سالوں میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ </p>

<p>دوسری جانب اس سال 46 صحافی قتل ہوئے جو  جو25 سالوں  کے دوران ایک سال میں قتل ہونے والے صحافیوں کی سب سے کم تعداد  ہے۔ </p>

<p>ڈان اخبار نے اپنی <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174107/">رپوٹ</a> میں اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے  ادارے نے اپنے بیان میں کہا" آر ایس ایف نے سنہ 1995 سے تمام اعداد و شامر جمع کرنا شروع کیے تھے جب کہ اس قبل صحافیوں کو کبھی بھی اتنی بڑی تعداد میں گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔</p>

<p>دریں اثنا گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال تقریبا 20 فی صد اضافہ ہوا جس کی وجہ میانمار، ہانگ کانگ اور بیلاروس میں میڈیا پر پابندیاں ہیں۔ </p>

<p>اگر خواتین صحافیوں کی بات کی جائے تو 60 صحافی خواتین شامل ہیں، جو گذشتہ سال کا صرف ایک تہائی بنتا ہے جب کہ آر ایس ایف نے کہا خواتین صحافیوں کو کبھی اتنی تعداد میں گرفتار نہیں کیا گیا۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/12/61baf416326ae.jpg"  alt="زیر حراست صحافیوں میں 60 خواتین صحافی بھی شامل ہیں&mdash; تصویر: وکیمیڈیا کامنز/ فائل" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">زیر حراست صحافیوں میں 60 خواتین صحافی بھی شامل ہیں— تصویر: وکیمیڈیا کامنز/ فائل</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>درجہ بندی کے اعتبار سے اس وقت چین میں 124 صحافی جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں جب کہ ویتنام میں 43، بیلاروس میں 32 اور سعودی عرب میں31 صحافی قید ہیں۔ </p>

<p>اس کے علاوہ  46 صحافیوں کو قتل کیا  گیا ہے  اور رپوٹ میں کہا گیا کہ 65 صحافیوں کو باقاعدہ حدف بناکر قتل کیا ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30273735</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Dec 2021 20:45:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
