<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 05:23:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 05:23:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیوزی لینڈ چرچ حملہ: پاکستانی ڈاکٹر نعیم کو بہادری پر اعزاز سے نواز دیا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30273724/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیوزی لینڈ کی حکومت نے مساجد پر حملے میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر نعیم راشد اور عبدالعزیز کو دوسروں کی جان بچانے میں مدد کرنے پر اپنے اعلیٰ ترین بہادری ایوارڈ" نیوزی لینڈ کراس "سے نوازا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم اور کابینہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عزیز اور ڈاکٹر راشد کو انتہائی خطرناک صورتحال میں عظیم  بہادری کے کاموں پر" نیوزی لینڈ کراس"  سے نوازا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/PakinNewZealand/status/1471308576870129670?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک بیان میں محکمہ نے کہا کہ ڈاکٹر راشد کرائسٹ چرچ کے ڈینز ایونو پر واقع النور مسجد میں تھے جب اسلحے سے لیس مسلح شخص نے مسجد پر حملہ کا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید کہا کہ ڈاکٹر راشد نے دیکھا کہ مسلح شخص نے کمرے کے دوسری طرف مَردوں کے ایک بڑے گروپ پر گولیاں چلانا شروع کر دیں، تو انہوں نے مسلح شخص کی طرف بھاگے تو اس نے ان  کو کندھے میں گولی مار دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دوران  جب ڈاکٹر راشد نے مسلح شخص کی توجہ عارضی طور پر ان لوگوں سے ہٹا دی، جو کمرے کی دوسری طرف فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب کہ اس لمحے کم از کم7 افراد ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دریں اثنا بیان میں مزید کہا کہ عزیز نے مسلح شخص کو اپنے کمویفلاج لباس میں واپس اپنی کار کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تو اس پر اشتعال انگزب نعرے لگائے تاکہ اس کا دھیان لوگوں سے ہٹ جائے اورمزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ مسلح شخص نے عزیز کو رائفل اٹھاتے ہوئے دیکھا، اپنی بندوق چھوڑ کر اپنی گاڑی کی طرف بھاگ گیا، خیال رہے اس حملے میں  51 افراد شہید ہوئے تھے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیوزی لینڈ کی حکومت نے مساجد پر حملے میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر نعیم راشد اور عبدالعزیز کو دوسروں کی جان بچانے میں مدد کرنے پر اپنے اعلیٰ ترین بہادری ایوارڈ" نیوزی لینڈ کراس "سے نوازا دیا۔</strong></p>

<p>نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم اور کابینہ کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ عزیز اور ڈاکٹر راشد کو انتہائی خطرناک صورتحال میں عظیم  بہادری کے کاموں پر" نیوزی لینڈ کراس"  سے نوازا گیا ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/PakinNewZealand/status/1471308576870129670?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایک بیان میں محکمہ نے کہا کہ ڈاکٹر راشد کرائسٹ چرچ کے ڈینز ایونو پر واقع النور مسجد میں تھے جب اسلحے سے لیس مسلح شخص نے مسجد پر حملہ کا تھا۔</p>

<p>مزید کہا کہ ڈاکٹر راشد نے دیکھا کہ مسلح شخص نے کمرے کے دوسری طرف مَردوں کے ایک بڑے گروپ پر گولیاں چلانا شروع کر دیں، تو انہوں نے مسلح شخص کی طرف بھاگے تو اس نے ان  کو کندھے میں گولی مار دی۔</p>

<p>اس دوران  جب ڈاکٹر راشد نے مسلح شخص کی توجہ عارضی طور پر ان لوگوں سے ہٹا دی، جو کمرے کی دوسری طرف فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔</p>

<p>جب کہ اس لمحے کم از کم7 افراد ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔</p>

<p>دریں اثنا بیان میں مزید کہا کہ عزیز نے مسلح شخص کو اپنے کمویفلاج لباس میں واپس اپنی کار کی طرف بھاگتے ہوئے دیکھا تو اس پر اشتعال انگزب نعرے لگائے تاکہ اس کا دھیان لوگوں سے ہٹ جائے اورمزید جانی نقصان کو روکا جا سکے۔ </p>

<p>اس کے علاوہ مسلح شخص نے عزیز کو رائفل اٹھاتے ہوئے دیکھا، اپنی بندوق چھوڑ کر اپنی گاڑی کی طرف بھاگ گیا، خیال رہے اس حملے میں  51 افراد شہید ہوئے تھے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30273724</guid>
      <pubDate>Thu, 16 Dec 2021 20:47:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
