<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 19:34:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 19:34:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چیف جسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30272348/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیوٹیپ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخوست پر اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ ثاقب نثار کی لیک آڈیوجن کے کیسز سےمتعلق ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی مبینہ آڈیوٹیپ کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;صدر سندھ ہائیکورٹ بار صلاح الدین احمد نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ثاقب نثار آڈیوٹیپ نے عدلیہ کے وقارکونقصان پہنچایا ،عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئے یہ تعین کرنا ضروری ہےکہ ثاقب نثار کی آڈیو اصلی ہے یا جعلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ سے تاثرملتا ہےکہ عدلیہ بیرونی قوتوں کےدباؤمیں ہے ،عدلیہ کو اپنے نام کے تحفظ کیلئے آزاد خودمختار کمیشن تشکیل دینا چاہیئے، آئینی عدالت ہونے کے ناطے عوام کا آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ پراعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست میں استدعا کی گئی کہ اچھی شہرت والےریٹائرڈ جج، وکیل، صحافی، سول سوسائٹی کےافراد پرمشتمل آزاد خود مختار کمیشن بنایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پر چیف جسٹس اسلام آباد نے استفسار کیا کہ یہ بتا دیں کہ یہ پٹیشن قابل سماعت کیسے ہے؟ کس کیخلاف رٹ دائر کی گئی؟ آپ کی درخواست حاضرسروس چیف جسٹس کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ درخواست موجودہ چیف جسٹس نہیں، سابق چیف جسٹس پاکستان کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جس آڈیوکی بات ہورہی ہےوہ اس وقت کی ہےجب وہ چیف جسٹس پاکستان تھے، عدلیہ کو بڑے چیلنجرکاسامنا کرنا پڑا،عدلیہ کی آزادی کیلئے بارز نے کردارادا کیا، ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں کہ جہاں سوشل میڈیا کسی قواعد کے بغیر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار نے کہا کہ یہی بات تکلیف دہ ہےکہ سوشل میڈیا پر یہ چیز وائرل ہوئی اوراس پر بحث بھی ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے، آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ ہم پہلے اٹارنی جنرل کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کریں گےاور اس کے بعد درخواست کےقابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر بات کریں گے، عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے ،جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا، عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کوئی فلڈ گیٹ نہیں کھل جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزار صلاح الدین احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے قرار داد منظور کی، عدالت مناسب سمجھے تو انہیں بھی نوٹس کردیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس اسلام آباد اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیئے کہ آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے عدالت آپ کا احترام کرتی ہے، آپ کچھ آڈیو کلپس سے رنجیدہ ہیں، چیف جسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ کیا انہوں نے یہ ریلیز کی یا کسی امریکا میں بیٹھے ہوئے آدمی نے؟مبینہ آڈیو ٹیپ ایک زیر التوا ءاپیلوں والے کیس سے متعلق ہے، آڈیوجن کے کیسز سےمتعلق ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے مزید کہا کہ فرض کریں آڈیو درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں کس کے پاس ہے؟ ایسی تحقیقات سے کل کوئی بھی کلپ لا کر کہے گا تحقیقات کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے درخواست کےقابل سماعت یا ناقابل سماعت ہونے سےمتعلق معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 8دسمبرتک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد:سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی مبینہ آڈیوٹیپ کی تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخوست پر اسلام آبادہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ ثاقب نثار کی لیک آڈیوجن کے کیسز سےمتعلق ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔</strong></p>

<p>اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثارکی مبینہ آڈیوٹیپ کی تحقیقات کیلئے کمیشن کی تشکیل سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔</p>

<p>صدر سندھ ہائیکورٹ بار صلاح الدین احمد نے درخواست میں مؤقف اپنایا کہ ریٹائرڈ چیف جسٹس ثاقب نثار آڈیوٹیپ نے عدلیہ کے وقارکونقصان پہنچایا ،عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کیلئے یہ تعین کرنا ضروری ہےکہ ثاقب نثار کی آڈیو اصلی ہے یا جعلی۔</p>

<p>درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ مبینہ آڈیو ٹیپ سے تاثرملتا ہےکہ عدلیہ بیرونی قوتوں کےدباؤمیں ہے ،عدلیہ کو اپنے نام کے تحفظ کیلئے آزاد خودمختار کمیشن تشکیل دینا چاہیئے، آئینی عدالت ہونے کے ناطے عوام کا آزاد اور غیر جانبدار عدلیہ پراعتماد بحال کرنا ضروری ہے۔</p>

<p>درخواست میں استدعا کی گئی کہ اچھی شہرت والےریٹائرڈ جج، وکیل، صحافی، سول سوسائٹی کےافراد پرمشتمل آزاد خود مختار کمیشن بنایا جائے۔</p>

<p>اس پر چیف جسٹس اسلام آباد نے استفسار کیا کہ یہ بتا دیں کہ یہ پٹیشن قابل سماعت کیسے ہے؟ کس کیخلاف رٹ دائر کی گئی؟ آپ کی درخواست حاضرسروس چیف جسٹس کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ درخواست موجودہ چیف جسٹس نہیں، سابق چیف جسٹس پاکستان کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔</p>

<p>چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ جس آڈیوکی بات ہورہی ہےوہ اس وقت کی ہےجب وہ چیف جسٹس پاکستان تھے، عدلیہ کو بڑے چیلنجرکاسامنا کرنا پڑا،عدلیہ کی آزادی کیلئے بارز نے کردارادا کیا، ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں کہ جہاں سوشل میڈیا کسی قواعد کے بغیر ہے۔</p>

<p>درخواست گزار نے کہا کہ یہی بات تکلیف دہ ہےکہ سوشل میڈیا پر یہ چیز وائرل ہوئی اوراس پر بحث بھی ہو رہی ہے۔</p>

<p>چیف جسٹس اسلام آباد نے کہا کہ روز کچھ نہ کچھ چل رہا ہوتا ہے، آپ کس کس بات کی انکوائری کرائیں گے؟ ہم پہلے اٹارنی جنرل کو پری ایڈمشن نوٹس جاری کریں گےاور اس کے بعد درخواست کےقابل سماعت ہونے یا نہ ہونے پر بات کریں گے، عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے ،جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا، عدالت نے یہ بھی دیکھنا ہے کہ کوئی فلڈ گیٹ نہیں کھل جائے۔</p>

<p>درخواست گزار صلاح الدین احمد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان بار کونسل نے قرار داد منظور کی، عدالت مناسب سمجھے تو انہیں بھی نوٹس کردیں۔</p>

<p>چیف جسٹس اسلام آباد اطہر من اللّٰہ نے ریمارکس دیئے کہ آئین و قانون کی حکمرانی کیلئے عدالت آپ کا احترام کرتی ہے، آپ کچھ آڈیو کلپس سے رنجیدہ ہیں، چیف جسٹس پاکستان کی آڈیو ٹیپس ریکارڈ کرنے کی صلاحیت کس کے پاس ہے؟ کیا انہوں نے یہ ریلیز کی یا کسی امریکا میں بیٹھے ہوئے آدمی نے؟مبینہ آڈیو ٹیپ ایک زیر التوا ءاپیلوں والے کیس سے متعلق ہے، آڈیوجن کے کیسز سےمتعلق ہے انہوں نے معاملہ عدالت لانے میں دلچسپی نہیں دکھائی۔</p>

<p>چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے مزید کہا کہ فرض کریں آڈیو درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں کس کے پاس ہے؟ ایسی تحقیقات سے کل کوئی بھی کلپ لا کر کہے گا تحقیقات کریں۔</p>

<p>عدالت نے درخواست کےقابل سماعت یا ناقابل سماعت ہونے سےمتعلق معاونت کیلئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 8دسمبرتک ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30272348</guid>
      <pubDate>Mon, 29 Nov 2021 11:09:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
