<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 05:17:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 05:17:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان: خاتون کھلاڑی کو ذبح کردیا گیا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30269543/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اگست کے وسط سے افغانستان میں سینکڑوں مرد اور خواتین کھلاڑی خوف کی فضا میں رہ رہے ہیں۔ طالبان کے اقتدار سنھبالنے کے بعد خواتین کھلاڑی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔ اس خوف کا ایک تازہ سبب ایک خاتون کھلاڑی کا مبینہ طورپر طالبان شدت پسندوں کے ہاتھوں بے دردی کے ساتھ ہونے والا قتل ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تازہ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون والی بال کھلاڑی کو ذبح کر دیا گیا ہے اور اس قتل کا الزام طالبان پرعائد کیا جا رہا ہے۔ مقتولہ افغانستان میں والی بال کی 30 خواتین کھلاڑیوں میں سے ایک تھیں جو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ملک سے فرار نہ ہوسکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغان کارکن زالا زازئی نے منگل کو ایک ٹویٹ میں انکشاف کیا کہ طالبان نے قومی خواتین والی بال ٹیم کی کھلاڑی کو قتل کر دیا ہے۔ خاتون کھلاڑی کا گلہ کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ جو کھلاڑی فرار نہیں ہوسکیں انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ایک کھلاڑی ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ماری گئی ہے۔ ہم اپنے دوسری کھلاڑیوں کو کھونا نہیں چاہتے۔ وہ کابل میں پھنسی ہوئی ہیں اور کوئی ان کی نہیں سنتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کھلاڑی کی دو تصاویر بھی شائع کیں۔ ایک میں مقتولہ کو خواتین کی ٹیم کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے جب کہ دوسری تصویر میں انہیں قتل کے بعد مردہ حالت میں دکھایا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/zala_zazai/status/1450394153750343681?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواتین ٹیم کی کھلاڑی مزجان سادات نے عالمی برادری اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے افغان کھلاڑیوں کی مدد کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ٹویٹر پر لکھا، 'ہماری ایک کھلاڑی ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ماری گئی ہے اور ہم دوسرے کھلاڑیوں کو کھونا نہیں چاہتے۔ وہ کابل میں پھنسی ہوئی ہیں اور کسی نے ہماری آواز نہیں سنی۔ براہ کرم ہمیں نکالیں۔'&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/MuzhganSadat1/status/1450106785344458772?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل ستمبر میں درجنوں کھلاڑی اور اسپورٹس کوچز پاکستان فرار ہوگئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 20 سال میں انہوں نے جو حاصل کیا تھا اسے کھو دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;والی بال ٹیم کے کھلاڑی طالبان کے خوف سے تین ماہ سے چھپ کر زندگی گذار رہی ہیں۔ وہ طالبان کے حملوں کے خوف سے مسلسل اپنے ٹھکانے بدلتی رہتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اگست کے وسط سے افغانستان میں سینکڑوں مرد اور خواتین کھلاڑی خوف کی فضا میں رہ رہے ہیں۔ طالبان کے اقتدار سنھبالنے کے بعد خواتین کھلاڑی خود کو غیر محفوظ سمجھنے لگی ہیں۔ اس خوف کا ایک تازہ سبب ایک خاتون کھلاڑی کا مبینہ طورپر طالبان شدت پسندوں کے ہاتھوں بے دردی کے ساتھ ہونے والا قتل ہے۔</strong></p>

<p>تازہ اطلاعات کے مطابق ایک خاتون والی بال کھلاڑی کو ذبح کر دیا گیا ہے اور اس قتل کا الزام طالبان پرعائد کیا جا رہا ہے۔ مقتولہ افغانستان میں والی بال کی 30 خواتین کھلاڑیوں میں سے ایک تھیں جو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ملک سے فرار نہ ہوسکیں۔</p>

<p>افغان کارکن زالا زازئی نے منگل کو ایک ٹویٹ میں انکشاف کیا کہ طالبان نے قومی خواتین والی بال ٹیم کی کھلاڑی کو قتل کر دیا ہے۔ خاتون کھلاڑی کا گلہ کاٹ کر اسے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ </p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ جو کھلاڑی فرار نہیں ہوسکیں انہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔ ایک کھلاڑی ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ماری گئی ہے۔ ہم اپنے دوسری کھلاڑیوں کو کھونا نہیں چاہتے۔ وہ کابل میں پھنسی ہوئی ہیں اور کوئی ان کی نہیں سنتا۔</p>

<p>انہوں نے کھلاڑی کی دو تصاویر بھی شائع کیں۔ ایک میں مقتولہ کو خواتین کی ٹیم کے ساتھ دیکھا جاسکتا ہے جب کہ دوسری تصویر میں انہیں قتل کے بعد مردہ حالت میں دکھایا ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/zala_zazai/status/1450394153750343681?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خواتین ٹیم کی کھلاڑی مزجان سادات نے عالمی برادری اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو سے افغان کھلاڑیوں کی مدد کی اپیل کی۔</p>

<p>انہوں نے ٹویٹر پر لکھا، 'ہماری ایک کھلاڑی ان دہشت گردوں کے ہاتھوں ماری گئی ہے اور ہم دوسرے کھلاڑیوں کو کھونا نہیں چاہتے۔ وہ کابل میں پھنسی ہوئی ہیں اور کسی نے ہماری آواز نہیں سنی۔ براہ کرم ہمیں نکالیں۔'</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/MuzhganSadat1/status/1450106785344458772?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس سے قبل ستمبر میں درجنوں کھلاڑی اور اسپورٹس کوچز پاکستان فرار ہوگئی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 20 سال میں انہوں نے جو حاصل کیا تھا اسے کھو دیا ہے۔</p>

<p>والی بال ٹیم کے کھلاڑی طالبان کے خوف سے تین ماہ سے چھپ کر زندگی گذار رہی ہیں۔ وہ طالبان کے حملوں کے خوف سے مسلسل اپنے ٹھکانے بدلتی رہتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30269543</guid>
      <pubDate>Wed, 20 Oct 2021 10:20:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
