<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 23:18:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 23:18:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شہباز،حمزہ منی لانڈرنگ کیس: ایف آئی اے کا بینکنگ کورٹ کے دائرہ اختیار پر اعتراض
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30268827/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں بینکنگ کورٹ کے دائرہِ اختیار پر اعتراض اٹھا دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی مدت ختم ہونے پر لاہور کی بینکنگ کورٹ کے روبرو پیش ہوئے۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوران سماعت عدالت کی جانب سے تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق استفسار پر ایف آئی اے نے کے  پراسکیوٹر معظم حبیب نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کو سوالنامہ بھجوایا گیا تھا، جس پر انہوں نے جواب جمع کرایا ہے، شہباز شریف کے جوابات دیکھ کر تفتیش میں پیش رفت ہو گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ بہت وقت ہو گیا ہے، ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستیں زیرِ التواء ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شہباز شریف نے عدالت کے روبرو کہا کہ یہ وہی پلندہ ہے جس پر لندن سے فیصلہ آیا ہے، ایف آئی اے کے افسر تمام باتیں میڈیا کو بتا دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ کیس کی سماعت بینکنگ کورٹ میں نہیں ہو سکتی، اینٹی کرپشن کی دفعات کی وجہ سے کیس بینکنگ کورٹ میں نہیں چلایا جا سکتا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس پر فاضل جج نے کہا کہ پہلی بار سرکاری وکیل کی طرف سے دائرہ اختیار کا سوال اٹھایا گیا ہے، 30 اکتوبر کو عدالت کے دائرہ اختیار کے اعتراض پر سماعت ہو گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دریں اثنا بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں میں 30 اکتوبر تک توسیع کر دی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کو آج عدالت کے دائرہ اختیار کا خیال کیوں آیا؟ ایک سال سے زیادہ ہوگیا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہم ایف آئی اے سے تعاون نہیں کر رہے، ایف آئی اے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے شہزاد اکبر کے کہنے پر اپنی مرضی کی خبر دیتا ہے، ایف آئی اے نے آج تک کسی کیخلاف اتنا طویل کیس نہیں چلایا، نیازی حکومت نئے نئے قوانین لے کر آرہی ہے، کیس کی تفتیش کو ایک سال سے زیادہ ہوگیا ہے، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، حیلے بہانوں سے عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے، جہانگیر ترین کا کیس بھی اسی معزز عدالت میں چلا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں بینکنگ کورٹ کے دائرہِ اختیار پر اعتراض اٹھا دیا۔</strong></p>

<p>شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی مدت ختم ہونے پر لاہور کی بینکنگ کورٹ کے روبرو پیش ہوئے۔  </p>

<p>دوران سماعت عدالت کی جانب سے تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق استفسار پر ایف آئی اے نے کے  پراسکیوٹر معظم حبیب نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کو سوالنامہ بھجوایا گیا تھا، جس پر انہوں نے جواب جمع کرایا ہے، شہباز شریف کے جوابات دیکھ کر تفتیش میں پیش رفت ہو گی۔ </p>

<p>جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ بہت وقت ہو گیا ہے، ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستیں زیرِ التواء ہیں۔</p>

<p>شہباز شریف نے عدالت کے روبرو کہا کہ یہ وہی پلندہ ہے جس پر لندن سے فیصلہ آیا ہے، ایف آئی اے کے افسر تمام باتیں میڈیا کو بتا دیتے ہیں۔</p>

<p>ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ کیس کی سماعت بینکنگ کورٹ میں نہیں ہو سکتی، اینٹی کرپشن کی دفعات کی وجہ سے کیس بینکنگ کورٹ میں نہیں چلایا جا سکتا۔ </p>

<p>جس پر فاضل جج نے کہا کہ پہلی بار سرکاری وکیل کی طرف سے دائرہ اختیار کا سوال اٹھایا گیا ہے، 30 اکتوبر کو عدالت کے دائرہ اختیار کے اعتراض پر سماعت ہو گی۔</p>

<p>دریں اثنا بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں میں 30 اکتوبر تک توسیع کر دی۔</p>

<p>پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کو آج عدالت کے دائرہ اختیار کا خیال کیوں آیا؟ ایک سال سے زیادہ ہوگیا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہم ایف آئی اے سے تعاون نہیں کر رہے، ایف آئی اے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کر رہا ہے۔</p>

<p>عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے شہزاد اکبر کے کہنے پر اپنی مرضی کی خبر دیتا ہے، ایف آئی اے نے آج تک کسی کیخلاف اتنا طویل کیس نہیں چلایا، نیازی حکومت نئے نئے قوانین لے کر آرہی ہے، کیس کی تفتیش کو ایک سال سے زیادہ ہوگیا ہے، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، حیلے بہانوں سے عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے، جہانگیر ترین کا کیس بھی اسی معزز عدالت میں چلا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30268827</guid>
      <pubDate>Sat, 09 Oct 2021 11:56:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
