<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 00:53:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 00:53:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دورانِ نماز نوجوان کا انتقال، دلدوز ویڈیو دیکھئے
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30268414/</link>
      <description>&lt;p&gt;مصر کے شہر اسکندریہ کے علاقے سموحہ میں دفتر کی مسجد میں نماز ادا کرنے والے نوجوان کی روح نماز کے دوران پرواز کر گئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ لمحہ جائے نماز میں لگے ہوئے کلوز سرکٹ کیمرے میں محفوظ ہو گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں اس پر مبنی مختصر ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر انتہائی تیزی سے وائرل ہونے لگا جس پر "#حسن خاتمہ"‘ سمیت دیگر دلدوز تبصرے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1444745598884790288"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نماز ادا کرنے والا 39 سالہ احمد السید اسکندریہ کے ایک سiکیورٹی ادارے میں خدمات سرانجام دیتا تھا۔ وہ ادارے میں نماز کے لیے مختص چھوٹی کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ واقعہ 29 ستمبر کو رونما ہوا جسے مانیٹرنگ کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا تھا۔ ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد السید سجدے کے بعد جائے نماز پر گر جاتے ہیں اور اس دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متوفی احمد السید کے رشتہ داروں نے مصری ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دوران نماز رحلت پانے والے نوجوان شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ تھے۔ وہ اسکندریہ گورنری کے گرین ایریا کی ایک کالونی میں رہائش پذیر تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مرحوم کے دوستوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ان کے دوران نماز انتقال کے کلپ پر بہت ہی دلدوز تبصرے کیے ہیں۔  ان میں  'تیرے اور تیرے رب کے درمیان کچھ پردہ نہ رہا'۔۔۔ 'جس چیز پر زندگی گذاری, اسی میں موت آئی'... 'حسن خاتمہ' ۔۔۔ 'احمد اللہ کے ہاتھوں میں دم توڑ گیا' اور 'آپ تو اپنے بچوں کی روزی اور بیمار اہلیہ کے لیے دوا کی خاطر مزدوری کر رہے تھے۔ آپ نماز کے پابند تھے اور اسی میں اپنی جان دے گئے۔'  جیسے تبصرے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مصر کے شہر اسکندریہ کے علاقے سموحہ میں دفتر کی مسجد میں نماز ادا کرنے والے نوجوان کی روح نماز کے دوران پرواز کر گئی۔ </p>

<p>یہ لمحہ جائے نماز میں لگے ہوئے کلوز سرکٹ کیمرے میں محفوظ ہو گیا۔ </p>

<p>بعد ازاں اس پر مبنی مختصر ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر انتہائی تیزی سے وائرل ہونے لگا جس پر "#حسن خاتمہ"‘ سمیت دیگر دلدوز تبصرے کیے جا رہے ہیں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/i/status/1444745598884790288"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>نماز ادا کرنے والا 39 سالہ احمد السید اسکندریہ کے ایک سiکیورٹی ادارے میں خدمات سرانجام دیتا تھا۔ وہ ادارے میں نماز کے لیے مختص چھوٹی کی مسجد میں نماز ادا کرتے ہوئے داعی اجل کو لبیک کہہ گیا۔</p>

<p>یہ واقعہ 29 ستمبر کو رونما ہوا جسے مانیٹرنگ کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا تھا۔ ویڈیو کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احمد السید سجدے کے بعد جائے نماز پر گر جاتے ہیں اور اس دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر جاتے ہیں۔</p>

<p>متوفی احمد السید کے رشتہ داروں نے مصری ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ دوران نماز رحلت پانے والے نوجوان شادی شدہ اور تین بچوں کے باپ تھے۔ وہ اسکندریہ گورنری کے گرین ایریا کی ایک کالونی میں رہائش پذیر تھے۔</p>

<p>مرحوم کے دوستوں نے سوشل میڈیا پر وائرل ان کے دوران نماز انتقال کے کلپ پر بہت ہی دلدوز تبصرے کیے ہیں۔  ان میں  'تیرے اور تیرے رب کے درمیان کچھ پردہ نہ رہا'۔۔۔ 'جس چیز پر زندگی گذاری, اسی میں موت آئی'... 'حسن خاتمہ' ۔۔۔ 'احمد اللہ کے ہاتھوں میں دم توڑ گیا' اور 'آپ تو اپنے بچوں کی روزی اور بیمار اہلیہ کے لیے دوا کی خاطر مزدوری کر رہے تھے۔ آپ نماز کے پابند تھے اور اسی میں اپنی جان دے گئے۔'  جیسے تبصرے شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30268414</guid>
      <pubDate>Mon, 04 Oct 2021 13:00:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
