<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 10:17:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 10:17:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شوکت ترین 90 روپے کلو چینی کیسے بیچیں گے؟
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30268350/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے وزیرمملکت اطلاعات فرخ حبیب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کچھ روز میں گھی کی قیمت 300 روپے فی کلو سے نیچے آجائے گی، ساڑھے 12 ملین گھرانوں کو ڈائریکٹ فوڈ سبسڈی دی جائے گی جبکہ چینی 90 روپے تک فروخت کی جاسکے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ 30 سال کی کوتاہیوں کی وجہ سے ہمارا انحصار امپورٹ پر رہا، تاہم اب صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔ کسان کو فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ پنجاب سمیت پورے ملک کے ہرگھرانے کو صحت کارڈ دیئے جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیرخزانہ شوکت ترین کی جانب سے چینی 90 روپے فروخت کی خوشخبری پر سوال اٹھتا ہے کہ وزیرخزانہ کے بتائے ہوئے نرخ پر چینی کی فروخت کیسے ممکن ہے؟ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی مارکیٹ میں 29 ستمبر 2021 کو چینی کی قیمت 502 ڈالر میٹرک ٹن تھی جو یکم اکتوبر 2021 تک 512 ڈالر میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چینی کی خرید کے لئے ٹریڈنگ  کارپوریشن آف پاکستان کا ادارہ بولیاں وصول کرتا ہے، رواں ماہ چینی کی سب سے کم قیمت 692 ڈالر فی میٹرک ٹن کی بولی لگائی گئی تھی، فی الحال چینی کی فی کلو قیمت 100 روپے ہے اور اگر اس میں  سب سے کم قیمت کی بولی لگانے والے کو منظور کرلیا جائے تو بھی چینی کی فی کلو قیمت 123 روپے ہوجائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تو وزیرخزانہ شوکت ترین کا چینی 90 روپے فروخت کا دعویٰ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے وزیرمملکت اطلاعات فرخ حبیب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ کچھ روز میں گھی کی قیمت 300 روپے فی کلو سے نیچے آجائے گی، ساڑھے 12 ملین گھرانوں کو ڈائریکٹ فوڈ سبسڈی دی جائے گی جبکہ چینی 90 روپے تک فروخت کی جاسکے گی۔</strong></p>

<p>وفاقی وزیرِ خزانہ نے کہا کہ 30 سال کی کوتاہیوں کی وجہ سے ہمارا انحصار امپورٹ پر رہا، تاہم اب صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے۔ کسان کو فصل کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے دیئے جائیں گے جبکہ پنجاب سمیت پورے ملک کے ہرگھرانے کو صحت کارڈ دیئے جائیں گے۔</p>

<p>وزیرخزانہ شوکت ترین کی جانب سے چینی 90 روپے فروخت کی خوشخبری پر سوال اٹھتا ہے کہ وزیرخزانہ کے بتائے ہوئے نرخ پر چینی کی فروخت کیسے ممکن ہے؟ </p>

<p>عالمی مارکیٹ میں 29 ستمبر 2021 کو چینی کی قیمت 502 ڈالر میٹرک ٹن تھی جو یکم اکتوبر 2021 تک 512 ڈالر میٹرک ٹن تک پہنچ گئی۔</p>

<p>چینی کی خرید کے لئے ٹریڈنگ  کارپوریشن آف پاکستان کا ادارہ بولیاں وصول کرتا ہے، رواں ماہ چینی کی سب سے کم قیمت 692 ڈالر فی میٹرک ٹن کی بولی لگائی گئی تھی، فی الحال چینی کی فی کلو قیمت 100 روپے ہے اور اگر اس میں  سب سے کم قیمت کی بولی لگانے والے کو منظور کرلیا جائے تو بھی چینی کی فی کلو قیمت 123 روپے ہوجائے گی۔</p>

<p>تو وزیرخزانہ شوکت ترین کا چینی 90 روپے فروخت کا دعویٰ کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30268350</guid>
      <pubDate>Sun, 03 Oct 2021 13:00:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
