<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 22:36:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 22:36:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسامہ بن لادن کے خصوصی سیکیورٹی گارڈ کی دوبارہ افغانستان آمد
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30265855/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں القاعدہ کے ایک رکن محمد امین الحق کو جنوب مشرقی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ان کے آبائی شہر میں واپس آتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قابل ذکر بات یہ ہے کہ محمد امین الحق مشرقی افغانستان کے تورا بورا پہاڑوں میں القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کی موجودگی کے دوران ان کے محافظ دستے میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/al-qaeda/8794513/Osama-bin-Ladens-bodyguard-freed-by-Pakistan.html"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق پاکستان نے 2008 میں امین الحق کو گرفتار کیا اور اس کے بعد سنہ 2011 میں عدم ثبوت کی بنیاد رہا کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1432307695948910592"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ عرصے کے دوران تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے جلو میں افغانستان میں دہشت گردی کے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو افغانستان میں امریکی موجودگی کے بیس سال میں بھی نہیں دیکھے گئے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس لیے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ کے دوبارہ ظہور کے قوی امکانات ہیں جس نے 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر حملے کیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں انسداد دہشت گردی کے عہدیدار کریس کوسٹا نے "ایسوسی ایٹڈ پریس" کو بتایا کہ امریکی افواج کے تیزی سے انخلا اور افغانستان میں طالبان کے عروج کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ القاعدہ کے پاس ایک موقع ہے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;٭ بائیڈن انتظامیہ کے اندر شکوک و شبہات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چھ موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے چند روز قبل رائٹرزکو بتایا تھا کہ امریکی فورسز کی عدم موجودگی کے بارے میں افغانستان میں القاعدہ اور دیگر شدت پسندوں کی واپسی کو روکنے کی واشنگٹن کی صلاحیت کے بارے میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں شکوک و شبہات بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قابل اعتماد شراکت داروں کی روانگی، شدت پسندوں کی جیلوں سے رہائی اور طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد خطرہ ہے کہ القاعدہ افغانستان کی سرزمین پر دوبارہ سرگرم ہوجائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے 20 سال بعد افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی نمایاں طور پر کم ہوچکی ہے جبکہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ تنظیم مستقبل قریب میں بھی امریکا کے اندر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گذشتہ جون میں جاری کی گئی ایک رپورٹ نے تصدیق کی کہ القاعدہ کی سینیر قیادت اب بھی سیکڑوں مسلح عناصر کے ساتھ افغانستان کے اندر موجود ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پیر کے روز سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں القاعدہ کے ایک رکن محمد امین الحق کو جنوب مشرقی افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ان کے آبائی شہر میں واپس آتے دیکھا جا سکتا ہے۔</strong></p>

<p>قابل ذکر بات یہ ہے کہ محمد امین الحق مشرقی افغانستان کے تورا بورا پہاڑوں میں القاعدہ کے سابق رہنما اسامہ بن لادن کی موجودگی کے دوران ان کے محافظ دستے میں شامل تھے۔</p>

<p><a href="https://www.telegraph.co.uk/news/worldnews/al-qaeda/8794513/Osama-bin-Ladens-bodyguard-freed-by-Pakistan.html">رپورٹ</a> کے مطابق پاکستان نے 2008 میں امین الحق کو گرفتار کیا اور اس کے بعد سنہ 2011 میں عدم ثبوت کی بنیاد رہا کر دیا تھا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/i/status/1432307695948910592"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ افغانستان میں گذشتہ عرصے کے دوران تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کے جلو میں افغانستان میں دہشت گردی کے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو افغانستان میں امریکی موجودگی کے بیس سال میں بھی نہیں دیکھے گئے۔ </p>

<p>اس لیے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ القاعدہ کے دوبارہ ظہور کے قوی امکانات ہیں جس نے 11 ستمبر 2001 کو امریکا پر حملے کیے تھے۔</p>

<p>اس تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں انسداد دہشت گردی کے عہدیدار کریس کوسٹا نے "ایسوسی ایٹڈ پریس" کو بتایا کہ امریکی افواج کے تیزی سے انخلا اور افغانستان میں طالبان کے عروج کے ساتھ میں سمجھتا ہوں کہ القاعدہ کے پاس ایک موقع ہے اور وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائے گی۔</p>

<p><strong>٭ بائیڈن انتظامیہ کے اندر شکوک و شبہات</strong></p>

<p>چھ موجودہ اور سابق امریکی عہدیداروں نے چند روز قبل رائٹرزکو بتایا تھا کہ امریکی فورسز کی عدم موجودگی کے بارے میں افغانستان میں القاعدہ اور دیگر شدت پسندوں کی واپسی کو روکنے کی واشنگٹن کی صلاحیت کے بارے میں صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ میں شکوک و شبہات بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ </p>

<p>قابل اعتماد شراکت داروں کی روانگی، شدت پسندوں کی جیلوں سے رہائی اور طالبان کے افغانستان پر کنٹرول کے بعد خطرہ ہے کہ القاعدہ افغانستان کی سرزمین پر دوبارہ سرگرم ہوجائے۔</p>

<p>واضح رہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے 20 سال بعد افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی نمایاں طور پر کم ہوچکی ہے جبکہ یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ تنظیم مستقبل قریب میں بھی امریکا کے اندر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے یا نہیں۔</p>

<p>اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گذشتہ جون میں جاری کی گئی ایک رپورٹ نے تصدیق کی کہ القاعدہ کی سینیر قیادت اب بھی سیکڑوں مسلح عناصر کے ساتھ افغانستان کے اندر موجود ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30265855</guid>
      <pubDate>Tue, 31 Aug 2021 16:00:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
