<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 11:34:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 11:34:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابق افغان وزیر جرمنی میں پیزا ڈیلیوری کی نوکری کرنے لگے
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30265369/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابل میں طالبان کی انٹری کے بعد وہاں ایک افراتفری کا عالم ہے اور ہر کوئی ملک سے فرار ہونے کا خواہش مند ہے۔ لیکن اس سے ایک سال قبل ہی افغانستان کے وزیر اطلاعات سید احمد شاہ سعادت نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔  س کے بعد وہ جرمنی میں مقیم ہوگئے تھے، جبکہ ان کے بارے میں زیادہ اطلاعات نہیں تھیں۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اب غیر ملکی میڈیا نے &lt;a href="https://report.ge/ru/world/bivshiy-afganskiy-ministr-stal-dostavshikom-picci-v-germanii/"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کیا ہے کہ افغانستان کے یہ سابق وزیر جرمنی میں ڈلیوری بوائے بن گئے ہیں اور وہاں پیزا ڈلیوری کی نوکری کرکے گزر بسر کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغانستان کے سابق وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سید احمد شاہ سعادت جرمن شہر لیپزگ میں بطور کوریئر کام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/eha_news/status/1429364892524498945?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق افغان وزیر، لیفرنڈو ڈیلیوری سروس کے لیے کام کرتے ہیں اور موٹر سائیکل کے ذریعے پیزا ڈیلیور کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لیپ زائگر ووکسزیٹنگ کے مطابق سعادت 2018 سے سابق صدر اشرف غنی کے دور میں وزراء کی کابینہ کے رکن رہے ہیں۔ سعادت دیہی آبادی کے لیے موبائل نیٹ ورک کو بڑھانے کے ذمہ دار تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سال 2020 میں جب سعادت نے طالبان سے لڑنے کے لیے حکومتی حکمت عملی کے حق میں اپنی ایجنسی کو فنڈنگ منتقل کرنے سے انکار کردیا تو غنی کی حکومت نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ جس کے نتیجے میں سابق وزیر جرمنی چلے گئے ، جہاں انہوں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابل میں طالبان کی انٹری کے بعد وہاں ایک افراتفری کا عالم ہے اور ہر کوئی ملک سے فرار ہونے کا خواہش مند ہے۔ لیکن اس سے ایک سال قبل ہی افغانستان کے وزیر اطلاعات سید احمد شاہ سعادت نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔  س کے بعد وہ جرمنی میں مقیم ہوگئے تھے، جبکہ ان کے بارے میں زیادہ اطلاعات نہیں تھیں۔</strong> </p>

<p>تاہم اب غیر ملکی میڈیا نے <a href="https://report.ge/ru/world/bivshiy-afganskiy-ministr-stal-dostavshikom-picci-v-germanii/">رپورٹ</a> کیا ہے کہ افغانستان کے یہ سابق وزیر جرمنی میں ڈلیوری بوائے بن گئے ہیں اور وہاں پیزا ڈلیوری کی نوکری کرکے گزر بسر کر رہے ہیں۔</p>

<p>افغانستان کے سابق وزیر مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سید احمد شاہ سعادت جرمن شہر لیپزگ میں بطور کوریئر کام کرتے ہیں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/eha_news/status/1429364892524498945?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>سابق افغان وزیر، لیفرنڈو ڈیلیوری سروس کے لیے کام کرتے ہیں اور موٹر سائیکل کے ذریعے پیزا ڈیلیور کرتے ہیں۔</p>

<p>لیپ زائگر ووکسزیٹنگ کے مطابق سعادت 2018 سے سابق صدر اشرف غنی کے دور میں وزراء کی کابینہ کے رکن رہے ہیں۔ سعادت دیہی آبادی کے لیے موبائل نیٹ ورک کو بڑھانے کے ذمہ دار تھے۔</p>

<p>سال 2020 میں جب سعادت نے طالبان سے لڑنے کے لیے حکومتی حکمت عملی کے حق میں اپنی ایجنسی کو فنڈنگ منتقل کرنے سے انکار کردیا تو غنی کی حکومت نے انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا۔ جس کے نتیجے میں سابق وزیر جرمنی چلے گئے ، جہاں انہوں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30265369</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Aug 2021 09:05:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
