<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 22:20:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 22:20:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>"غیر اخلاقی" حرکات کے مقدمے میں نامزد ملزم گرفتار، عبوری ضمانت دِکھانے پر چھوڑ دیا گیا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30265341/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد میں قائد اعظم کےپورٹریٹ کےسامنے "غیراخلاقی" تصاویر میں موجود لڑکے کو گرفتارکرلیا گیا۔ملزم نےعبوری ضمانت کا عدالتی حکم نامہ دکھادیا جس پر پولیس نے اسے چھوڑ دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;معروف صحافی وسیم عباسی نے ٹوئٹر پر بتایا کہ اسلام آباد پولیس کےذرائع کے مطابق قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے فوٹو شوٹ میں نظر آنےوالےلڑکے کا نام ذوالفقار ہے اور وہ لاہور کا رہائشی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;blockquote&gt;
  &lt;p&gt;&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="ur" dir="rtl"&gt;اسلام آباد پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے بعد لاہور سے ملزم زوالفقار کو گرفتار کر لیا ہے جس نے قائداعظم کی پورٹریٹ کے سامنے کھڑے ہو کر شکلیں بنائیں تھیں۔۔ &lt;a href="https://t.co/KpP3SkGoLr"&gt;pic.twitter.com/KpP3SkGoLr&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; Waseem Abbasi (@Wabbasi007) &lt;a href="https://twitter.com/Wabbasi007/status/1430127005731901454?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;August 24, 2021&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;

&lt;p&gt;پولیس ٹیم نے ملزم کو لاہور سے گرفتار کیا اور اب اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے نامزد ملزم پر اسلام آباد ایکسپریس وے پر نصب قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے غیر اخلاقی حرکات کا مقدمہ رواں ماہ کے اوائل میں درج کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تھانہ کورال پولیس نے شہری راشد ملک کی درخواست پر مقدمہ درج کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کے مدعی نے بتایا کہ ’اسلام آباد میں تاریخی مقامات اور اشخاص کی تصاویر کے تقدس اور احترام ہر شہری پر فرض ہے۔ پولیس کے علم میں یہ معاملہ لانا چاہتا ہوں کہ کورال چوک پر نصب قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے برہنہ لڑکے اور لڑکی کا ناچ اور تصاویر بنانا ہمارے عظیم قائد کی عزت کی پامالی ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ایک لڑکے اور لڑکی نے قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے برہنہ تصاویر بنا کر وائرل کی ہیں۔ان کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے اور اگر یہ اصل ہیں تو اس پر کارروائی کی جائے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 294 کے تحت درج کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دفعہ کےتحت عوامی مقامات پر غیراخلاقی حرکات،نازیبا کلمات یا فحش گانے پر کسی بھی شخص کو جرم ثابت ہونے پرزیادہ سے زیادہ تین ماہ قید یا جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ قانون کے تحت عدالت دونوں سزائیں بھی دے سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئٹر پر معروف صحافی انصار عباسی نے بھی ڈی سی اسلام آباد کو تصاویر کھنچوانے والے افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا.&lt;/p&gt;

&lt;blockquote&gt;
  &lt;p&gt;&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="en" dir="ltr"&gt;The DC Islamabad &lt;a href="https://twitter.com/hamzashafqaat?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;@hamzashafqaat&lt;/a&gt; is requested to arrest the couple, who displayed extreme obscenity in public in the federal capital.&lt;/p&gt;&amp;mdash; Ansar Abbasi (@AnsarAAbbasi) &lt;a href="https://twitter.com/AnsarAAbbasi/status/1422194860887576577?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;August 2, 2021&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;

&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کے بعد اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے شہریوں سے کہا تھا کہ تصاویر بنانے والے افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد میں قائد اعظم کےپورٹریٹ کےسامنے "غیراخلاقی" تصاویر میں موجود لڑکے کو گرفتارکرلیا گیا۔ملزم نےعبوری ضمانت کا عدالتی حکم نامہ دکھادیا جس پر پولیس نے اسے چھوڑ دیا۔</p>

<p>معروف صحافی وسیم عباسی نے ٹوئٹر پر بتایا کہ اسلام آباد پولیس کےذرائع کے مطابق قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے فوٹو شوٹ میں نظر آنےوالےلڑکے کا نام ذوالفقار ہے اور وہ لاہور کا رہائشی ہے۔</p>

<blockquote>
  <p><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="ur" dir="rtl">اسلام آباد پولیس نے ایک بڑے آپریشن کے بعد لاہور سے ملزم زوالفقار کو گرفتار کر لیا ہے جس نے قائداعظم کی پورٹریٹ کے سامنے کھڑے ہو کر شکلیں بنائیں تھیں۔۔ <a href="https://t.co/KpP3SkGoLr">pic.twitter.com/KpP3SkGoLr</a></p>&mdash; Waseem Abbasi (@Wabbasi007) <a href="https://twitter.com/Wabbasi007/status/1430127005731901454?ref_src=twsrc%5Etfw">August 24, 2021</a></blockquote> <script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script></p>
</blockquote>

<p>پولیس ٹیم نے ملزم کو لاہور سے گرفتار کیا اور اب اسلام آباد منتقل کیا جارہا ہے۔</p>

<p>یاد رہے نامزد ملزم پر اسلام آباد ایکسپریس وے پر نصب قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے غیر اخلاقی حرکات کا مقدمہ رواں ماہ کے اوائل میں درج کیا گیا تھا۔</p>

<p>تھانہ کورال پولیس نے شہری راشد ملک کی درخواست پر مقدمہ درج کیا۔</p>

<p>ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کے مدعی نے بتایا کہ ’اسلام آباد میں تاریخی مقامات اور اشخاص کی تصاویر کے تقدس اور احترام ہر شہری پر فرض ہے۔ پولیس کے علم میں یہ معاملہ لانا چاہتا ہوں کہ کورال چوک پر نصب قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے برہنہ لڑکے اور لڑکی کا ناچ اور تصاویر بنانا ہمارے عظیم قائد کی عزت کی پامالی ہے۔‘</p>

<p>ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ’ایک لڑکے اور لڑکی نے قائداعظم کے پورٹریٹ کے سامنے برہنہ تصاویر بنا کر وائرل کی ہیں۔ان کا فرانزک ٹیسٹ کرایا جائے اور اگر یہ اصل ہیں تو اس پر کارروائی کی جائے۔‘</p>

<p>پولیس نے مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 294 کے تحت درج کر رکھا ہے۔</p>

<p>اس دفعہ کےتحت عوامی مقامات پر غیراخلاقی حرکات،نازیبا کلمات یا فحش گانے پر کسی بھی شخص کو جرم ثابت ہونے پرزیادہ سے زیادہ تین ماہ قید یا جرمانہ کیا جاسکتا ہے۔ قانون کے تحت عدالت دونوں سزائیں بھی دے سکتی ہے۔</p>

<p>ٹوئٹر پر معروف صحافی انصار عباسی نے بھی ڈی سی اسلام آباد کو تصاویر کھنچوانے والے افراد کی گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا.</p>

<blockquote>
  <p><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="en" dir="ltr">The DC Islamabad <a href="https://twitter.com/hamzashafqaat?ref_src=twsrc%5Etfw">@hamzashafqaat</a> is requested to arrest the couple, who displayed extreme obscenity in public in the federal capital.</p>&mdash; Ansar Abbasi (@AnsarAAbbasi) <a href="https://twitter.com/AnsarAAbbasi/status/1422194860887576577?ref_src=twsrc%5Etfw">August 2, 2021</a></blockquote> <script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script></p>
</blockquote>

<p>سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر کے بعد اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر نے شہریوں سے کہا تھا کہ تصاویر بنانے والے افراد کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30265341</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Aug 2021 19:42:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
