<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 24 Apr 2026 15:34:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 24 Apr 2026 15:34:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نور مقدم قتل کیس: تھراپی سینٹر کے 6 ملازمین کی ضمانت کاتحریری حکم جاری
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30265328/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آبادکی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے نور مقدم قتل کیس میں تھراپی سینٹر کے سی ای او سمیت 6 ملازمین کی ضمانت کا تحریری حکم جاری کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، تحریری فیصلے میں ملزمان کی ضمانت منظور کرنے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاری کردہ فیصلے کے مطابق نور مقدم کے قتل کے وقت تھراپی سینٹر کے سی ای او یا ملازمین موقع پر موجود نہیں تھے، ریکارڈ کے مطابق مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے تھراپی ورکس کے ملازم امجد کو بری طرح زخمی کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ  ملزمان کے ثبوت مٹانے یا شواہد ضائع کرنے کا معاملہ ٹرائل کے دوران طے ہو گا، اس موقع پر یہ مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا کہ تھراپی ورکس کی ٹیم ثبوت مٹانے گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جاری کیے گئے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ موقع پر پہنچنے سے پہلے تھراپی سینٹر کی ٹیم کو قتل کا علم تھا یا نہیں، یہ بھی دوران ٹرائل طے ہو گا، ایسے حالات میں گرفتار ملزمان کو لامحدود وقت کیلئے جیل میں رکھنے سے پراسیکیوشن کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ملزمان کی 5،5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آبادکی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے نور مقدم قتل کیس میں تھراپی سینٹر کے سی ای او سمیت 6 ملازمین کی ضمانت کا تحریری حکم جاری کردیا۔</p>

<p>ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، تحریری فیصلے میں ملزمان کی ضمانت منظور کرنے کی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔</p>

<p>جاری کردہ فیصلے کے مطابق نور مقدم کے قتل کے وقت تھراپی سینٹر کے سی ای او یا ملازمین موقع پر موجود نہیں تھے، ریکارڈ کے مطابق مرکزی ملزم ظاہر جعفر نے تھراپی ورکس کے ملازم امجد کو بری طرح زخمی کیا ہے۔</p>

<p>فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ  ملزمان کے ثبوت مٹانے یا شواہد ضائع کرنے کا معاملہ ٹرائل کے دوران طے ہو گا، اس موقع پر یہ مفروضہ قائم نہیں کیا جا سکتا کہ تھراپی ورکس کی ٹیم ثبوت مٹانے گئی تھی۔</p>

<p>جاری کیے گئے فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ موقع پر پہنچنے سے پہلے تھراپی سینٹر کی ٹیم کو قتل کا علم تھا یا نہیں، یہ بھی دوران ٹرائل طے ہو گا، ایسے حالات میں گرفتار ملزمان کو لامحدود وقت کیلئے جیل میں رکھنے سے پراسیکیوشن کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا، ملزمان کی 5،5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانتیں منظور کی جاتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30265328</guid>
      <pubDate>Tue, 24 Aug 2021 15:16:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
