<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 20:32:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 20:32:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>‏ پیپلزپارٹی نےپاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کو مسترد کر دیا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30259872/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کو مسترد کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماء اورسینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ  یہ 'میڈیا مارشل لا' قابل مذمت ہے، یہ میڈیا کو پابندیوں میں جکڑنے کیلئے  ہے،بھرپور مخالفت کریں گے ، جرنلسٹ پروٹیکشن بل اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد اس آرڈیننس کی تیاری کرنا حکومت کا دوہرا معیار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="ur" dir="rtl"&gt;حکومت پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے ذریعے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس آرڈیننس کو صحافی اور حقوق تنظیموں نے ’میڈیا مارشل لاء‘ قرار دیا ہے۔ ایک اتھارٹی کے تحت میڈیا کی سخت نگرانی کا منصوبا بن رہاہے۔ اس کے ذریعے معطلیان اور جرمانے لاگو کئے جائے گے۔1/2&lt;/p&gt;&amp;mdash; SenatorSherryRehman (@sherryrehman) &lt;a href="https://twitter.com/sherryrehman/status/1399227403663118339?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;May 31, 2021&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیری رحمان نے کہا کہ  اسلام آباد میں صحافیوں پر سب سے زیادہ حملے ہو رہے ہیں،  اس اتھارٹی کے تحت میڈیا کی مزید سخت نگرانی کا منصوبہ بن رہا ہے،  اس کے بعد میڈیا ادارے یا تو ریاستی ترجمان بن جائے گے یا بند ہوجائے گے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;blockquote class="twitter-tweet"&gt;&lt;p lang="ur" dir="rtl"&gt;حکومت کی میڈیا کو وضاحت فراہم کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ اس قانون کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر قابو پانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ سنسرشپ کو ادارتی اور قانونی تحفظ دینے کا منصوبہ ہے۔ اس کے بعد میڈیا ادارے یا تو ریاستی ترجمان بن جائے گے یا بند ہوجائے گے۔ 2/2 &lt;a href="https://twitter.com/hashtag/notoPMDA?src=hash&amp;amp;ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;#notoPMDA&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;&amp;mdash; SenatorSherryRehman (@sherryrehman) &lt;a href="https://twitter.com/sherryrehman/status/1399228133228777477?ref_src=twsrc%5Etfw"&gt;May 31, 2021&lt;/a&gt;&lt;/blockquote&gt; &lt;script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"&gt;&lt;/script&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کو مسترد کر دیا۔</strong></p>

<p>پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنماء اورسینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ  یہ 'میڈیا مارشل لا' قابل مذمت ہے، یہ میڈیا کو پابندیوں میں جکڑنے کیلئے  ہے،بھرپور مخالفت کریں گے ، جرنلسٹ پروٹیکشن بل اسمبلی سے پاس ہونے کے بعد اس آرڈیننس کی تیاری کرنا حکومت کا دوہرا معیار ہے۔</p>

<p><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="ur" dir="rtl">حکومت پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس 2021 کے ذریعے میڈیا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ اس آرڈیننس کو صحافی اور حقوق تنظیموں نے ’میڈیا مارشل لاء‘ قرار دیا ہے۔ ایک اتھارٹی کے تحت میڈیا کی سخت نگرانی کا منصوبا بن رہاہے۔ اس کے ذریعے معطلیان اور جرمانے لاگو کئے جائے گے۔1/2</p>&mdash; SenatorSherryRehman (@sherryrehman) <a href="https://twitter.com/sherryrehman/status/1399227403663118339?ref_src=twsrc%5Etfw">May 31, 2021</a></blockquote> <script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script></p>

<p>شیری رحمان نے کہا کہ  اسلام آباد میں صحافیوں پر سب سے زیادہ حملے ہو رہے ہیں،  اس اتھارٹی کے تحت میڈیا کی مزید سخت نگرانی کا منصوبہ بن رہا ہے،  اس کے بعد میڈیا ادارے یا تو ریاستی ترجمان بن جائے گے یا بند ہوجائے گے۔ </p>

<p><blockquote class="twitter-tweet"><p lang="ur" dir="rtl">حکومت کی میڈیا کو وضاحت فراہم کرنے کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ اس قانون کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر قابو پانے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ سنسرشپ کو ادارتی اور قانونی تحفظ دینے کا منصوبہ ہے۔ اس کے بعد میڈیا ادارے یا تو ریاستی ترجمان بن جائے گے یا بند ہوجائے گے۔ 2/2 <a href="https://twitter.com/hashtag/notoPMDA?src=hash&amp;ref_src=twsrc%5Etfw">#notoPMDA</a></p>&mdash; SenatorSherryRehman (@sherryrehman) <a href="https://twitter.com/sherryrehman/status/1399228133228777477?ref_src=twsrc%5Etfw">May 31, 2021</a></blockquote> <script async src="https://platform.twitter.com/widgets.js" charset="utf-8"></script></p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30259872</guid>
      <pubDate>Mon, 31 May 2021 13:06:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
