<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 09 Apr 2026 06:18:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 09 Apr 2026 06:18:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاپتاافرادکیس:وفاقی سیکرٹری داخلہ نے غیرمشروط معافی مانگ لی
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30259646/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی :سندھ ہائیکورٹ میں لاپتاافراد کیس کی سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری داخلہ نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جمعرات کو سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کی عدم بازیابی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،اس سلسلسے میں عدالتی حکم پر وفاقی سیکرٹری داخلہ،اٹارنی جنرل،ڈائریکٹرہیومن رائٹس اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی سیکریٹری داخلہ نے عدم پیشی پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی اور شوکاز نوٹس کا تحریری جواب بھی جمع کرا دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحریری جواب میں وفاقی سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتا ہوں اور مصروفیت کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جسٹس کے کے آغا نے سیکرٹری داخلہ سے مکالمہ کیا کہ آپ انتہائی اہم پوزیشن پر تعینات ہیں،  عدالت نے کئی حکم نامے جاری کئے،آپ  نے جواب تک جمع نہیں کرایا، مجبوراً عدالت کو ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنا پڑے، جبری گمشدگی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے، اسے ختم کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ انسانی حقوق کی بنیادوں پر وفاقی حکومت کام کررہی ہے، خیبر پختونخوا حکومت نے حراستی مراکز کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے، کے پی حراستی مراکز میں سندھ سے لاپتہ ہونے والے 3 افراد کی نشاندہی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سندھ سے لاپتہ ہوئے دیگر افراد کا سراغ نہیں لگایا جاسکا، وفاقی حکومت ترجیح بنیادوں پر اس معاملے کو دیکھ رہی ہے، جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ امید کرتے ہیں مستقبل میں وفاقی سیکریٹری داخلہ عدالتی حکم کو نظر انداز نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب کے ساتھ پھر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے لاپتہ افراد کیسز کی مزید سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی :سندھ ہائیکورٹ میں لاپتاافراد کیس کی سماعت کے دوران وفاقی سیکرٹری داخلہ نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگ لی۔</strong></p>

<p>جمعرات کو سندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کی عدم بازیابی کیخلاف کیس کی سماعت ہوئی،اس سلسلسے میں عدالتی حکم پر وفاقی سیکرٹری داخلہ،اٹارنی جنرل،ڈائریکٹرہیومن رائٹس اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے۔</p>

<p>وفاقی سیکریٹری داخلہ نے عدم پیشی پر عدالت سے غیر مشروط معافی مانگی اور شوکاز نوٹس کا تحریری جواب بھی جمع کرا دیا۔</p>

<p>تحریری جواب میں وفاقی سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ عدالتوں کا احترام کرتا ہوں اور مصروفیت کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکا۔</p>

<p>جسٹس کے کے آغا نے سیکرٹری داخلہ سے مکالمہ کیا کہ آپ انتہائی اہم پوزیشن پر تعینات ہیں،  عدالت نے کئی حکم نامے جاری کئے،آپ  نے جواب تک جمع نہیں کرایا، مجبوراً عدالت کو ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنا پڑے، جبری گمشدگی کا مسئلہ انتہائی اہم ہے، اسے ختم کرنا ہوگا۔</p>

<p>اٹارنی جنرل آف پاکستان نے کہا کہ انسانی حقوق کی بنیادوں پر وفاقی حکومت کام کررہی ہے، خیبر پختونخوا حکومت نے حراستی مراکز کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ہے، کے پی حراستی مراکز میں سندھ سے لاپتہ ہونے والے 3 افراد کی نشاندہی ہوئی ہے۔</p>

<p>سندھ سے لاپتہ ہوئے دیگر افراد کا سراغ نہیں لگایا جاسکا، وفاقی حکومت ترجیح بنیادوں پر اس معاملے کو دیکھ رہی ہے، جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ امید کرتے ہیں مستقبل میں وفاقی سیکریٹری داخلہ عدالتی حکم کو نظر انداز نہیں کریں گے۔</p>

<p>عدالت نے وفاقی سیکریٹری داخلہ کو آئندہ سماعت پر تفصیلی جواب کے ساتھ پھر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے لاپتہ افراد کیسز کی مزید سماعت 24 اگست تک ملتوی کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30259646</guid>
      <pubDate>Thu, 27 May 2021 13:45:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
