<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 23:48:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 23:48:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آکسیجن بنانے والی مشینیں کورونا کے مریضوں کیلئے کارآمد ہیں؟
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30257796/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈیا میں کورونا کے مریضوں کے لیے آکسیجن کی شدید کمی سامنے آنے کے بعد پاکستان میں تیسری لہر کی شدت کے پیش نظر آکسیجن موضوع بحث ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کورونا سے نمٹنے کے لیے فعال ادارے این سی او سی نے حال ہی میں آگاہ کیا ہے کہ فی الحال ملک میں آکسیجن کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;البتہ میڈیا پر خبروں کی بہتات اور انڈیا میں جاری آکسیجن کی قلت کی خبروں نے لوگوں میں خاصی تشویش پیدا کر دی ہے اور وہ اپنے طورپر آکسیجن کی ممکنہ کمی کے لیے سدباب کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آکسیجن کے صنعتی اور ہسپتالوں میں استعمال کے لیے عام طور پر ایک آکسیجن سپلائی لائن پر انحصار کیا جاتا ہے اور پاکستان میں کل پانچ ایسی بڑی کمپنیاں ہیں جو آکسیجن کی فراہمی کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جبکہ مارکیٹ میں چھوٹے درجے کی ایسی مشینیں بھی موجود ہیں جو ہوا میں سے آکسیجن کو کھینچ کر ایک کمپریسر کے ذریعے چھوٹے ٹینکوں میں بھر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لوگ اس اس مشین کو بھی خرید رہے ہیں۔ طبی آلات کا کاروبار کرنے والے لاہور کے ایک تاجر عبدالرؤف پچھلے کافی عرصے سے آکسیجن کنسنٹریٹر بیچ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’مارکیٹ میں پانچ اور دس لیٹر فی منٹ آکسیجن کشید کرنے والی مشینیں موجود ہیں۔ پچھلے سال تک پاکستان میں آنے والے مشینیں یورپ اور امریکہ سے آتی تھیں۔ لیکن اس وبا کے بعد اب زیادہ مشینیں چین سے آرہی ہیں لیکن ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ فرق نہیں پڑا۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عبدالرؤف کے مطابق ’دس لیٹر والی مشین تین لاکھ کی ہے اور پانچ لیٹر والی ایک بیس سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ آخری بار ان کی قیمتیں اس وقت بڑھیں جب ڈالر کا ریٹ اوپر گیا تھا۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ ’یہی پانچ لیٹر والا اس وقت ساٹھ سے ستر ہزار میں دستیاب تھا لیکن کورونا کے مریضوں کے لیے ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ یہ خرید کے لے کر جا ر ہے ہیں ایک تو قیمت زیادہ ہے دوسرا ڈاکٹر بھی یہ تجویز نہیں کرتے کیونکہ کورونا کے مریض کی ضرورت کافی حد تک اس مشین سے مختلف ہو سکتی ہے۔‘ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مارکیٹ میں موجود آکسیجن کنسنٹریٹر مشینیں عام طور پر ہائیپوآکسومینیا کے مریضوں کے لیے بنائی جاتی ہیں یہ ایسے مریض ہوتے ہیں جن کے جسم میں آکسیجن کی مسلسل کمی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاہور جناح ہسپتال کے کورونا وارڈ کی سربراہ ڈاکٹر فہمینہ اشفاق سمجھتی ہیں کہ کورونا کے مریضوں لیے آکسیجن کنسنٹریٹر خریدنا زیادہ کارآمد نہیں ہو گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کورونا کے وہ مریض جن میں آکسیجن کی مسلسل کمی ہورہی ہو ان کو بعض اوقات زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مشینں دس لیٹر فی منٹ سے زیادہ آکسیجن بنا ہی نہیں سکتیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’ہمارے ہاں ایسے مریض بھی ہیں جن کو تیس تیس لیٹر آکسیجن کی بھی ضرورت ہے تو آپ کو یا تو آکسیجن سلنڈر لانا ہو گا یا پھر ہسپتال کا رخ کرنا ہوگا۔ ہاں ابتدائی طور پر جب کم آکسیجن کی ضرورت ہو تب یہ مشینیں کچھ حد تک ضرور مدد کر سکتی ہیں۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ’ان مشینوں کی سہولت یہ ہوتی ہے کہ صرف پلگ اینڈ پلے سے ہی یہ آکسیجن بنانا شروع کر دیتی ہیں۔ یعنی آپ نے بس سوئچ آن کیا اور بس۔۔ دوسری طرف آکسیجن سلنڈر خریدنا لانا اور پھر ختم ہونے پر دوبارہ وہی مشق دوہرانا زرا مشکل ہوتا ہے۔‘&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈاکٹر فہمینہ اشفاق نے کہا کہ ’میں پھر بھی یہی کہوں گی کہ مشین کی افادیت کورونا مریضوں کے لیے زیادہ نہیں ہے۔ جیسے ہی 10 لیٹر سے زیادہ کی ضرورت ہو گی تو مشین کا کام ختم ہو جائے گا۔‘&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈیا میں کورونا کے مریضوں کے لیے آکسیجن کی شدید کمی سامنے آنے کے بعد پاکستان میں تیسری لہر کی شدت کے پیش نظر آکسیجن موضوع بحث ہے۔</strong></p>

<p>کورونا سے نمٹنے کے لیے فعال ادارے این سی او سی نے حال ہی میں آگاہ کیا ہے کہ فی الحال ملک میں آکسیجن کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔</p>

<p>البتہ میڈیا پر خبروں کی بہتات اور انڈیا میں جاری آکسیجن کی قلت کی خبروں نے لوگوں میں خاصی تشویش پیدا کر دی ہے اور وہ اپنے طورپر آکسیجن کی ممکنہ کمی کے لیے سدباب کر رہے ہیں۔</p>

<p>آکسیجن کے صنعتی اور ہسپتالوں میں استعمال کے لیے عام طور پر ایک آکسیجن سپلائی لائن پر انحصار کیا جاتا ہے اور پاکستان میں کل پانچ ایسی بڑی کمپنیاں ہیں جو آکسیجن کی فراہمی کر رہی ہیں۔</p>

<p>جبکہ مارکیٹ میں چھوٹے درجے کی ایسی مشینیں بھی موجود ہیں جو ہوا میں سے آکسیجن کو کھینچ کر ایک کمپریسر کے ذریعے چھوٹے ٹینکوں میں بھر سکتی ہیں۔</p>

<p>لوگ اس اس مشین کو بھی خرید رہے ہیں۔ طبی آلات کا کاروبار کرنے والے لاہور کے ایک تاجر عبدالرؤف پچھلے کافی عرصے سے آکسیجن کنسنٹریٹر بیچ رہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ’مارکیٹ میں پانچ اور دس لیٹر فی منٹ آکسیجن کشید کرنے والی مشینیں موجود ہیں۔ پچھلے سال تک پاکستان میں آنے والے مشینیں یورپ اور امریکہ سے آتی تھیں۔ لیکن اس وبا کے بعد اب زیادہ مشینیں چین سے آرہی ہیں لیکن ان کی قیمتوں میں خاطر خواہ فرق نہیں پڑا۔‘</p>

<p>عبدالرؤف کے مطابق ’دس لیٹر والی مشین تین لاکھ کی ہے اور پانچ لیٹر والی ایک بیس سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں دستیاب ہے۔ آخری بار ان کی قیمتیں اس وقت بڑھیں جب ڈالر کا ریٹ اوپر گیا تھا۔‘</p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ ’یہی پانچ لیٹر والا اس وقت ساٹھ سے ستر ہزار میں دستیاب تھا لیکن کورونا کے مریضوں کے لیے ہم نے دیکھا ہے کہ لوگ یہ خرید کے لے کر جا ر ہے ہیں ایک تو قیمت زیادہ ہے دوسرا ڈاکٹر بھی یہ تجویز نہیں کرتے کیونکہ کورونا کے مریض کی ضرورت کافی حد تک اس مشین سے مختلف ہو سکتی ہے۔‘ </p>

<p>مارکیٹ میں موجود آکسیجن کنسنٹریٹر مشینیں عام طور پر ہائیپوآکسومینیا کے مریضوں کے لیے بنائی جاتی ہیں یہ ایسے مریض ہوتے ہیں جن کے جسم میں آکسیجن کی مسلسل کمی رہتی ہے۔</p>

<p>لاہور جناح ہسپتال کے کورونا وارڈ کی سربراہ ڈاکٹر فہمینہ اشفاق سمجھتی ہیں کہ کورونا کے مریضوں لیے آکسیجن کنسنٹریٹر خریدنا زیادہ کارآمد نہیں ہو گا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ کورونا کے وہ مریض جن میں آکسیجن کی مسلسل کمی ہورہی ہو ان کو بعض اوقات زیادہ آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ مشینں دس لیٹر فی منٹ سے زیادہ آکسیجن بنا ہی نہیں سکتیں۔</p>

<p>’ہمارے ہاں ایسے مریض بھی ہیں جن کو تیس تیس لیٹر آکسیجن کی بھی ضرورت ہے تو آپ کو یا تو آکسیجن سلنڈر لانا ہو گا یا پھر ہسپتال کا رخ کرنا ہوگا۔ ہاں ابتدائی طور پر جب کم آکسیجن کی ضرورت ہو تب یہ مشینیں کچھ حد تک ضرور مدد کر سکتی ہیں۔‘</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ’ان مشینوں کی سہولت یہ ہوتی ہے کہ صرف پلگ اینڈ پلے سے ہی یہ آکسیجن بنانا شروع کر دیتی ہیں۔ یعنی آپ نے بس سوئچ آن کیا اور بس۔۔ دوسری طرف آکسیجن سلنڈر خریدنا لانا اور پھر ختم ہونے پر دوبارہ وہی مشق دوہرانا زرا مشکل ہوتا ہے۔‘</p>

<p>ڈاکٹر فہمینہ اشفاق نے کہا کہ ’میں پھر بھی یہی کہوں گی کہ مشین کی افادیت کورونا مریضوں کے لیے زیادہ نہیں ہے۔ جیسے ہی 10 لیٹر سے زیادہ کی ضرورت ہو گی تو مشین کا کام ختم ہو جائے گا۔‘</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30257796</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Apr 2021 11:18:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
