<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Apr 2026 00:49:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Apr 2026 00:49:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی محکمہ دفاع نے پراسرار "اڑن طشتری" کی ویڈیو جاری کردی
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30257122/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کچھ دن سے خاص طور پر امریکا میں ، میڈیا اور سماجی رابطوں کی سائٹوں پر اڑن طشتریوں کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ اڑن طشتری کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس پر کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔"UFO" کی ویڈیو پرامریکی محکمہ دفاع کا رد بھی آیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں منظرعام پر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز جو کہ سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں نیوی کے اہلکاروں کی پرواز کے دوران لی گئی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مناظر نامعلوم اڑتی اشیا میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مزید بڑھانے کے لیے آئی۔ یہ ایک نا معلوم فضائی مظہر ہے جسے 'یو اے پی' کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پینٹاگان کے ترجمان سیو گوو نے سی این این کو بتایا کہ آسمان میں چمکتی ہوئی مثلثی شے کی تصاویر اور فوٹیج ، جنہیں "بال" ، "اکورن" اور "دھاتی غبارے" کے طور پر دیکھا گیا، کو نیوی اہلکاروں نے 2019ء کو کیمرے میں محفوظ کیا تھا جسے جمعہ کے روز برطانوی اخبار گارجین کی ویب سائٹ پر نشر کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1380875870945083399"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وزارت دفاع ان فوٹیج کی نوعیت کے بارے میں مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی معلومات شیئر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ اپریل میں ، پینٹاگون نے 2004 اور 2015 میں لی گئی 'یو اے پی' کی 3 ویڈیوز جاری کی تھیں جس میں پائلٹوں کی آواز بھی شامل تھی جس کی وجہ سے وہ اجنبی اشیاء کو دیکھ رہے تھے۔ وہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کچھ دن سے خاص طور پر امریکا میں ، میڈیا اور سماجی رابطوں کی سائٹوں پر اڑن طشتریوں کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے۔ اڑن طشتری کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد اس پر کئی سوالات بھی اٹھ رہے ہیں۔"UFO" کی ویڈیو پرامریکی محکمہ دفاع کا رد بھی آیا ہے۔</strong></p>

<p>وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں منظرعام پر آنے والی تصاویر اور ویڈیوز جو کہ سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں نیوی کے اہلکاروں کی پرواز کے دوران لی گئی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ مناظر نامعلوم اڑتی اشیا میں بڑھتی ہوئی دلچسپی کو مزید بڑھانے کے لیے آئی۔ یہ ایک نا معلوم فضائی مظہر ہے جسے 'یو اے پی' کہا جاتا ہے۔</p>

<p>پینٹاگان کے ترجمان سیو گوو نے سی این این کو بتایا کہ آسمان میں چمکتی ہوئی مثلثی شے کی تصاویر اور فوٹیج ، جنہیں "بال" ، "اکورن" اور "دھاتی غبارے" کے طور پر دیکھا گیا، کو نیوی اہلکاروں نے 2019ء کو کیمرے میں محفوظ کیا تھا جسے جمعہ کے روز برطانوی اخبار گارجین کی ویب سائٹ پر نشر کیا گیا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/i/status/1380875870945083399"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس میں یہ بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ وزارت دفاع ان فوٹیج کی نوعیت کے بارے میں مزید کوئی تبصرہ نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے بارے میں کوئی معلومات شیئر کی جائیں گی۔</p>

<p>بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ اپریل میں ، پینٹاگون نے 2004 اور 2015 میں لی گئی 'یو اے پی' کی 3 ویڈیوز جاری کی تھیں جس میں پائلٹوں کی آواز بھی شامل تھی جس کی وجہ سے وہ اجنبی اشیاء کو دیکھ رہے تھے۔ وہ یہ سب دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30257122</guid>
      <pubDate>Sun, 18 Apr 2021 10:22:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
