<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 23 Apr 2026 12:38:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 23 Apr 2026 12:38:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں شوگر انڈسٹری پر سٹے بازی کا الزام، سٹہ کیسے ہوتا ہے؟
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30256254/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;چینی کی تجارت سے جُڑے افراد بتاتے ہیں کہ چینی کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ طلب و رسد سے منسلک سٹے بازی کی وجہ سے ہوتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لاہور میں چینی کے کاروبار سے منسلک ایک تاجر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سٹے بازی کا کام تو کئی سالوں سے چل رہا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں تیزی آئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان میں چینی کا سٹہ زیادہ تر اکبری منڈی لاہور اور جوڑیا بازار کراچی میں ہوتا ہے۔ اکبری منڈی لاہور صوبۂ پنجاب میں اناج کی خرید و فروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں چینی کا کاروبار بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سٹے کا زیادہ کام کرشنگ سیزن کے دوران ہوتا ہے۔ گنے کی کرشنگ کا سیزن مارچ میں ختم ہوتا ہے اور اس وقت چینی کی سپلائی زیادہ ہوتی ہے۔ اُس وقت قیمتیں کم ہونے کا امکان ہوتا ہے لیکن سٹے باز چینی کی قیمتیں کم نہیں ہونے دیتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ چینی پر سٹہ دو طرح سے کھیلا جاتا ہے۔ پہلے طریقے میں سٹے باز شوگر ملوں کو بیعانہ یعنی کچھ رقم ادا کر کے آئندہ مہینوں میں چینی کا اسٹاک اُٹھانے کی ڈیل کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسرے طریقے میں چینی کے تاجر (بڑے ڈیلر) آپس میں طے کر کے چینی کا سودا کرتے ہیں۔ اِس طرح کے سٹے میں نہ بیعانہ شامل ہوتا ہے اور نہ ہی چینی کی ڈلیوری دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اُن کے بقول اگر مارکیٹ میں چینی کا موجودہ نرخ 90 روپے فی کلو ہے تو سٹے باز مستقبل کے لیے مہنگے داموں میں چینی خریدنے کے آرڈرز دیتے ہیں اور پھر شوگر ملز بھی زیادہ قیمت پر چینی فروخت کرتی ہیں۔ لیکن یہ صرف قیمتیں بڑھانے کا طریقہ ہوتا ہے اور درحقیقت اس میں چینی کی فزیکل ڈلیوری نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سٹے باز قیاس آرائیاں مارکیٹ میں پھیلا دیتے ہیں جس سے مارکیٹ میں چینی کی مصنوعی قلت کا بحران پیدا ہوتا ہے اور طلب بڑھنے پر لامحالہ چینی کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ ایف آئی اے نے بھی اپنی تحقیقات کے دوران انکشاف کیا کہ پاکستان میں مصنوعی قلت اور سٹّہ بازی کے ذریعے چینی کی قیمت کو مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ ایک سال کے دوران چینی کی فی کلو قیمت 70 سے بڑھ کر 90 روپے کر دی گئی۔ لہذٰا ایک سال کے دوران سٹہ لگانے والوں نے 110 ارب روپے کمائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں سٹے کی رقوم رکھنے کے لیے جعلی اکاؤنٹس کا انکشاف بھی کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وفاقی تفتیشی ادارے نے رمضان میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے بھی مختلف ڈیلرز کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف آئی اے لاہور کی ٹیم میں شامل ایک افسر نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ شوگر سٹہ مافیا کے 10 بڑے گروپوں کے خلاف مقدمات درج کر کے گرفتاریوں کے لیے ایف آئی اے نے 20 ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیقاتی افسر کے مطابق مبینہ سٹہ مافیا کے 40 سرکردہ ارکان کے بینک اکاونٹس منجمد کر دیے گئے ہیں جن میں کچھ کا تعلق پاکستان میں سیاسی گھرانوں سے بھی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>چینی کی تجارت سے جُڑے افراد بتاتے ہیں کہ چینی کی قیمتوں میں کمی یا اضافہ طلب و رسد سے منسلک سٹے بازی کی وجہ سے ہوتا ہے۔</strong></p>

<p>لاہور میں چینی کے کاروبار سے منسلک ایک تاجر نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں سٹے بازی کا کام تو کئی سالوں سے چل رہا ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ سالوں سے اس میں تیزی آئی ہے۔</p>

<p>پاکستان میں چینی کا سٹہ زیادہ تر اکبری منڈی لاہور اور جوڑیا بازار کراچی میں ہوتا ہے۔ اکبری منڈی لاہور صوبۂ پنجاب میں اناج کی خرید و فروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے جہاں چینی کا کاروبار بھی ہوتا ہے۔</p>

<p>سٹے کا زیادہ کام کرشنگ سیزن کے دوران ہوتا ہے۔ گنے کی کرشنگ کا سیزن مارچ میں ختم ہوتا ہے اور اس وقت چینی کی سپلائی زیادہ ہوتی ہے۔ اُس وقت قیمتیں کم ہونے کا امکان ہوتا ہے لیکن سٹے باز چینی کی قیمتیں کم نہیں ہونے دیتے۔</p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ چینی پر سٹہ دو طرح سے کھیلا جاتا ہے۔ پہلے طریقے میں سٹے باز شوگر ملوں کو بیعانہ یعنی کچھ رقم ادا کر کے آئندہ مہینوں میں چینی کا اسٹاک اُٹھانے کی ڈیل کرتے ہیں۔</p>

<p>دوسرے طریقے میں چینی کے تاجر (بڑے ڈیلر) آپس میں طے کر کے چینی کا سودا کرتے ہیں۔ اِس طرح کے سٹے میں نہ بیعانہ شامل ہوتا ہے اور نہ ہی چینی کی ڈلیوری دی جاتی ہے۔</p>

<p>اُن کے بقول اگر مارکیٹ میں چینی کا موجودہ نرخ 90 روپے فی کلو ہے تو سٹے باز مستقبل کے لیے مہنگے داموں میں چینی خریدنے کے آرڈرز دیتے ہیں اور پھر شوگر ملز بھی زیادہ قیمت پر چینی فروخت کرتی ہیں۔ لیکن یہ صرف قیمتیں بڑھانے کا طریقہ ہوتا ہے اور درحقیقت اس میں چینی کی فزیکل ڈلیوری نہیں ہوتی۔</p>

<p>سٹے باز قیاس آرائیاں مارکیٹ میں پھیلا دیتے ہیں جس سے مارکیٹ میں چینی کی مصنوعی قلت کا بحران پیدا ہوتا ہے اور طلب بڑھنے پر لامحالہ چینی کی قیمت بھی بڑھ جاتی ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ ایف آئی اے نے بھی اپنی تحقیقات کے دوران انکشاف کیا کہ پاکستان میں مصنوعی قلت اور سٹّہ بازی کے ذریعے چینی کی قیمت کو مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ ایک سال کے دوران چینی کی فی کلو قیمت 70 سے بڑھ کر 90 روپے کر دی گئی۔ لہذٰا ایک سال کے دوران سٹہ لگانے والوں نے 110 ارب روپے کمائے۔</p>

<p>ایف آئی اے نے اپنی تحقیقات میں سٹے کی رقوم رکھنے کے لیے جعلی اکاؤنٹس کا انکشاف بھی کیا تھا۔</p>

<p>وفاقی تفتیشی ادارے نے رمضان میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے بھی مختلف ڈیلرز کے خلاف کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔</p>

<p>ایف آئی اے لاہور کی ٹیم میں شامل ایک افسر نے امریکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ شوگر سٹہ مافیا کے 10 بڑے گروپوں کے خلاف مقدمات درج کر کے گرفتاریوں کے لیے ایف آئی اے نے 20 ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔</p>

<p>تحقیقاتی افسر کے مطابق مبینہ سٹہ مافیا کے 40 سرکردہ ارکان کے بینک اکاونٹس منجمد کر دیے گئے ہیں جن میں کچھ کا تعلق پاکستان میں سیاسی گھرانوں سے بھی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30256254</guid>
      <pubDate>Wed, 07 Apr 2021 10:53:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
