<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 11:30:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 11:30:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بحری جہازوں کی جنگ کے راز، جس پر اسرائیل اور ایران نے پردہ ڈالا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30255241/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایسا نظر آتا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بحری جہازوں کی جنگ، اس سے متعلق خبریں پڑھنے والے عام قاری کے تصور سے کہیں زیادہ دور ہیں۔ گذشتہ ہفتے امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ حالیہ عرصے میں ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے 12 حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک اسرائیلی عسکری تجزیہ کار کے مطابق اسرائیل نے بحر احمر کے جنوب سے لے کر شام کے شمالی ساحل تک کئی ٹھکانوں پر ایران کے تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم فریقین نے اس موضوع پر پردہ ڈالے رکھا۔ ایک طرف اسرائیل نے امریکی اخبار کی معلومات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تو دوسری طرف ایران نے بھی خاموشی سادھے رکھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے گذشتہ روز ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں خاموشی سے کی گئیں۔ اس دوران دھماکے یا میزائل کے بغیر سکون سے ان جہازوں کے اہم مقامات کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسرائیلی بحریہ نے ایرانی تیل بردار جہازوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے گریز کیا تا کہ یہ حملے ریڈار میں نہ آئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسرائیلی اور مغربی انٹیلی جنس اداروں نے ڈھائی سال سے ایران کی جانب سے تیل کی اسمگلنگ کے راستوں اور کارروائیوں کا انکشاف کیا ہوا تھا۔ یہ اسمگلنگ بڑے ٹینکروں کے ذریعے ہو رہی تھی جو ایران کے جنوب میں واقع بندرگاہوں سے چلتے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایسا نظر آتا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان بحری جہازوں کی جنگ، اس سے متعلق خبریں پڑھنے والے عام قاری کے تصور سے کہیں زیادہ دور ہیں۔ گذشتہ ہفتے امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے بتایا تھا کہ حالیہ عرصے میں ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے 12 حملے کیے گئے۔</p>

<p>ایک اسرائیلی عسکری تجزیہ کار کے مطابق اسرائیل نے بحر احمر کے جنوب سے لے کر شام کے شمالی ساحل تک کئی ٹھکانوں پر ایران کے تیل بردار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا۔ تاہم فریقین نے اس موضوع پر پردہ ڈالے رکھا۔ ایک طرف اسرائیل نے امریکی اخبار کی معلومات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تو دوسری طرف ایران نے بھی خاموشی سادھے رکھی۔</p>

<p>اسرائیلی اخبار ہاریٹز نے گذشتہ روز ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کی جانب سے ایرانی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں خاموشی سے کی گئیں۔ اس دوران دھماکے یا میزائل کے بغیر سکون سے ان جہازوں کے اہم مقامات کو نقصان پہنچایا گیا۔ اسرائیلی بحریہ نے ایرانی تیل بردار جہازوں پر کنٹرول حاصل کرنے سے گریز کیا تا کہ یہ حملے ریڈار میں نہ آئیں۔</p>

<p>اسرائیلی اور مغربی انٹیلی جنس اداروں نے ڈھائی سال سے ایران کی جانب سے تیل کی اسمگلنگ کے راستوں اور کارروائیوں کا انکشاف کیا ہوا تھا۔ یہ اسمگلنگ بڑے ٹینکروں کے ذریعے ہو رہی تھی جو ایران کے جنوب میں واقع بندرگاہوں سے چلتے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30255241</guid>
      <pubDate>Sun, 21 Mar 2021 10:28:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
