<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 10 Apr 2026 00:53:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 10 Apr 2026 00:53:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سائنسدانوں کی اژدھے سے کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کی تیاری کرلی
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30254286/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگرچہ کورونا وائرس کی ویکسینز تیار ہو چکی ہیں، تاہم ماہرین اب بھی ویکسین کی تیاری کے نئے طریقوں کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہی کوششوں میں اب امریکی سائنس دانوں نے سانپ کے ذریعے ویکسین تیار کرنے کا ایک طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میل آن لائن کے مطابق سائنس دانوں نے امریکی ریاست فلوریڈا کے جنگلات میں پائے جانے والے برمی اژدھے میں ایک ایسا کمپاﺅنڈ دریافت کرلیا ہے جو کورونا وائرس کی ویکسین میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کمپاﺅنڈ کا نام ’Squalene‘ ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ کمپاﺅنڈ تیل کی طرح کا ایک قدرتی مادہ ہے۔ کمرشل پیمانے پر یہ مچھلی کے تیل سے کشید کیا جاتا ہے۔ یہ بالخصوص شارک مچھلی کے جگر میں پایا جاتا ہے۔ تاہم شارک سے اسے کشید کرنا ایک متنازعہ عمل ہے، کیونکہ شارک معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لہٰذا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمپاﺅنڈ شارک کی بجائے فلوریڈا میں پائی جانے والی اژدھوں کی اس برمی نسل سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنس دانوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک 10 فٹ کے اژدھے میں یہ کمپاﺅنڈ اس قدر ہوتا ہے کہ اس سے ویکسین کی 3500 خوراکیں تیار ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ اس کمپاﺅنڈ کا ویکسینز کی تیاری میں استعمال پہلی بار 1997ء میں کیا گیا تھا، جب اسے انفلوئنزا کی ویکسین میں ڈالا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگرچہ کورونا وائرس کی ویکسینز تیار ہو چکی ہیں، تاہم ماہرین اب بھی ویکسین کی تیاری کے نئے طریقوں کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔ </p>

<p>انہی کوششوں میں اب امریکی سائنس دانوں نے سانپ کے ذریعے ویکسین تیار کرنے کا ایک طریقہ دریافت کر لیا ہے۔ </p>

<p>میل آن لائن کے مطابق سائنس دانوں نے امریکی ریاست فلوریڈا کے جنگلات میں پائے جانے والے برمی اژدھے میں ایک ایسا کمپاﺅنڈ دریافت کرلیا ہے جو کورونا وائرس کی ویکسین میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کمپاﺅنڈ کا نام ’Squalene‘ ہے۔ </p>

<p>یہ کمپاﺅنڈ تیل کی طرح کا ایک قدرتی مادہ ہے۔ کمرشل پیمانے پر یہ مچھلی کے تیل سے کشید کیا جاتا ہے۔ یہ بالخصوص شارک مچھلی کے جگر میں پایا جاتا ہے۔ تاہم شارک سے اسے کشید کرنا ایک متنازعہ عمل ہے، کیونکہ شارک معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔ </p>

<p>لہٰذا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمپاﺅنڈ شارک کی بجائے فلوریڈا میں پائی جانے والی اژدھوں کی اس برمی نسل سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ </p>

<p>سائنس دانوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک 10 فٹ کے اژدھے میں یہ کمپاﺅنڈ اس قدر ہوتا ہے کہ اس سے ویکسین کی 3500 خوراکیں تیار ہوسکتی ہیں۔</p>

<p>واضح رہے کہ اس کمپاﺅنڈ کا ویکسینز کی تیاری میں استعمال پہلی بار 1997ء میں کیا گیا تھا، جب اسے انفلوئنزا کی ویکسین میں ڈالا گیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30254286</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Mar 2021 11:44:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
