<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 09:23:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 09:23:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی بیس پر خوفناک ایرانی میزائل حملے کی ویڈیو منظر عام پر
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30254120/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;لگ بھگ ایک سال قبل امریکی بیس پر ہونے والے ایران کے میزائل حملے کی نئی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل مکنزی کہتے ہیں کہ حملے سے اندازہ ہوا، ایران کے میزائل کتنے خطرناک ہیں، امریکی بیس پر اس سے بڑا حملہ نہیں دیکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوری 2020ء میں جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ایران نے عراق کی عین الاسد بیس پر گیارہ میزائل داغے تھے، بیس پر موجود امریکی اہلکاروں کے مطابق میزائل ایک ہزار پاؤنڈ وزنی وار ہیڈ کے حامل تھے، حملے کے بعد شعلے فضا میں ستر فٹ تک بلند ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1366403883120091144"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل فرینک مک کینزی کے مطابق ایرانی حملے کو وہ براہ راست سیٹلائٹ کی مدد سے دیکھ رہے تھے، حملے سے کچھ دیر پہلے اطلاع ملی تھی اس لیے ایک ہزار فوجیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنرل مک کینزی کے مطابق انخلاء نہ ہوتا تو ڈیڑھ سو تک امریکی اہلکار مارے جاسکتے تھے۔جنرل مک کینزی نے حملے کو کسی بھی امریکی بیس پر تاریخ کا سب سے میزائل حملہ قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی امریکی سپاہی مرجاتا تو امریکا ایران کو جواب دیتا، حملے میں سو سے زیادہ فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئی تھیں، کئی سپاہی آج تک ٹھیک نہیں ہوپائے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/i/status/1366399170064580609"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنرل میکنزی کے بیان اور ویڈیو دیکھنے کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو گا امریکہ ایران کے ساتھ جنگی پیشرفت کرنے سے گریز کرے گا۔ تاہم یہ آنے والے وقت ثابت کرے گا کہ امریکا ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوپاتا ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>لگ بھگ ایک سال قبل امریکی بیس پر ہونے والے ایران کے میزائل حملے کی نئی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے۔</strong> </p>

<p>مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل مکنزی کہتے ہیں کہ حملے سے اندازہ ہوا، ایران کے میزائل کتنے خطرناک ہیں، امریکی بیس پر اس سے بڑا حملہ نہیں دیکھا۔</p>

<p>جنوری 2020ء میں جنرل سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے ایران نے عراق کی عین الاسد بیس پر گیارہ میزائل داغے تھے، بیس پر موجود امریکی اہلکاروں کے مطابق میزائل ایک ہزار پاؤنڈ وزنی وار ہیڈ کے حامل تھے، حملے کے بعد شعلے فضا میں ستر فٹ تک بلند ہوئے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/i/status/1366403883120091144"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فورسز کے کمانڈر جنرل فرینک مک کینزی کے مطابق ایرانی حملے کو وہ براہ راست سیٹلائٹ کی مدد سے دیکھ رہے تھے، حملے سے کچھ دیر پہلے اطلاع ملی تھی اس لیے ایک ہزار فوجیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔</p>

<p>جنرل مک کینزی کے مطابق انخلاء نہ ہوتا تو ڈیڑھ سو تک امریکی اہلکار مارے جاسکتے تھے۔جنرل مک کینزی نے حملے کو کسی بھی امریکی بیس پر تاریخ کا سب سے میزائل حملہ قرار دیا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی امریکی سپاہی مرجاتا تو امریکا ایران کو جواب دیتا، حملے میں سو سے زیادہ فوجیوں کو دماغی چوٹیں آئی تھیں، کئی سپاہی آج تک ٹھیک نہیں ہوپائے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/i/status/1366399170064580609"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>جنرل میکنزی کے بیان اور ویڈیو دیکھنے کے بعد اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو گا امریکہ ایران کے ساتھ جنگی پیشرفت کرنے سے گریز کرے گا۔ تاہم یہ آنے والے وقت ثابت کرے گا کہ امریکا ایران کے ساتھ نیوکلیئر معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوپاتا ہے یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30254120</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Mar 2021 09:51:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
