<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 22 Apr 2026 02:50:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 22 Apr 2026 02:50:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک بھارت ڈی جی ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن پر رابطہ
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30253842/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)  کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی گفتگو اچھے ماحول میں ہوئی اور دونوں افسران نے لائن آف کنٹرول کی صورت حال کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ڈی جی ایم اوز نے دیگر تمام سیکٹرز کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور  بنیادی معاملات و خدشات حل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں رابطہ 1987 سے جاری ہے، پاکستان اور بھارت متفق ہیں کہ ہاٹ لائن کے موجودہ مکینزم کو مؤثر بنایا جائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈ ی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ایل او سی پرجنگ بندی کے لیے 2003 میں ایک اور انڈراسٹینڈنگ ہوئی جب کہ 2014 سے ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آگئی تھی، 2003 کے بعد سے اب تک 13500 سے زائد سیز فائرخلاف ورزیاں ہوئیں جن میں 310 شہری جاں بحق اور 1600 کے قریب زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہےکہ 2014 سے 2021 کے درمیان 97 فیصد سیز فائرخلاف ورزیاں ہوئیں اور 2019 میں سب سے زیادہ سیز فائر خلاف ورزیاں ہوئیں جب کہ 2018 میں سیز فائر خلاف ورزیوں سے سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور بھارت کے ڈائریکٹرجنرل ملٹری آپریشنز کا ہاٹ لائن پر رابطہ ہوا۔</strong></p>

<p>پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)  کے مطابق پاک بھارت ڈی جی ایم اوز کی گفتگو اچھے ماحول میں ہوئی اور دونوں افسران نے لائن آف کنٹرول کی صورت حال کا جائزہ لیا۔</p>

<p>آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ڈی جی ایم اوز نے دیگر تمام سیکٹرز کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا اور  بنیادی معاملات و خدشات حل کرنے پر بھی اتفاق کیا۔</p>

<p>ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں رابطہ 1987 سے جاری ہے، پاکستان اور بھارت متفق ہیں کہ ہاٹ لائن کے موجودہ مکینزم کو مؤثر بنایا جائے۔</p>

<p>ڈ ی جی آئی ایس پی آر کے مطابق ایل او سی پرجنگ بندی کے لیے 2003 میں ایک اور انڈراسٹینڈنگ ہوئی جب کہ 2014 سے ایل او سی پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں تیزی آگئی تھی، 2003 کے بعد سے اب تک 13500 سے زائد سیز فائرخلاف ورزیاں ہوئیں جن میں 310 شہری جاں بحق اور 1600 کے قریب زخمی ہوئے۔</p>

<p>میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہےکہ 2014 سے 2021 کے درمیان 97 فیصد سیز فائرخلاف ورزیاں ہوئیں اور 2019 میں سب سے زیادہ سیز فائر خلاف ورزیاں ہوئیں جب کہ 2018 میں سیز فائر خلاف ورزیوں سے سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30253842</guid>
      <pubDate>Thu, 25 Feb 2021 12:08:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
