<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 07 Apr 2026 08:47:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 07 Apr 2026 08:47:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دہشتگردوں کی جانب سے ملالہ یوسفزئی کو قتل کی دھمکیاں
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30253322/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو سوشل میڈیا پر دہشتگردوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ملالہ یوسفزئی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آبائی علاقہ سوات ان کو جان سے زیادہ عزیز جبکہ برمنگھم ان کا دوسرا گھر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوات میں قاتلانہ حملے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو علاج کیلئے برمنگھم منتقل کیا گیا تھا۔ تب سے وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے اس بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کو ایک اکاؤنٹ سے وطن واپس آنے اور حساب چکانے کی دھمکی دی گئی، اکاؤنٹ ہولڈر مبینہ طور پر ایک دہشتگرد تنظیم کا لیڈر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے جواب میں ملالہ یوسفزئی نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ یہ تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان ہے جس نے مجھ پر قاتلانہ حملے سمیت دیگر بے گناہ لوگوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اب یہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملالہ یوسفزئی نے وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹوئٹر پر مینشن کرتے ہوئے پوچھا کہ احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کی حراست سے کیسے فرار ہوا؟۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Malala/status/1361671823977570310?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملالہ یوسفزئی کی جانب سے ٹوئٹ ہونے کے بعد وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیک اکاؤنٹ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اس فیک اکاؤنٹ کی تفصیلات متعلقہ اداروں اور ٹوئٹر کو ارسال کردی ہیں۔ چند شرپسند عناصر کو سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت کا پرچار نہیں کرنے دیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/arslankhalid_m/status/1361676152272785409?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو سوشل میڈیا پر دہشتگردوں کی جانب سے قتل کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔</strong> </p>

<p>میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز ملالہ یوسفزئی نے برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نے کہا کہ آبائی علاقہ سوات ان کو جان سے زیادہ عزیز جبکہ برمنگھم ان کا دوسرا گھر ہے۔</p>

<p>سوات میں قاتلانہ حملے کے بعد ملالہ یوسفزئی کو علاج کیلئے برمنگھم منتقل کیا گیا تھا۔ تب سے وہ اپنے اہل خانہ کے ہمراہ برطانیہ میں ہی مقیم ہیں۔ </p>

<p>ان کے اس بیان کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کو ایک اکاؤنٹ سے وطن واپس آنے اور حساب چکانے کی دھمکی دی گئی، اکاؤنٹ ہولڈر مبینہ طور پر ایک دہشتگرد تنظیم کا لیڈر تھا۔</p>

<p>اس کے جواب میں ملالہ یوسفزئی نے ٹوئٹر پر بیان دیا کہ یہ تحریک طالبان پاکستان کا سابق ترجمان ہے جس نے مجھ پر قاتلانہ حملے سمیت دیگر بے گناہ لوگوں پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ اب یہ سوشل میڈیا پر لوگوں کو دھمکیاں دے رہا ہے۔ </p>

<p>ملالہ یوسفزئی نے وزیراعظم عمران خان اور ڈی جی آئی ایس پی آر کو ٹوئٹر پر مینشن کرتے ہوئے پوچھا کہ احسان اللہ احسان سیکیورٹی اداروں کی حراست سے کیسے فرار ہوا؟۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Malala/status/1361671823977570310?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ملالہ یوسفزئی کی جانب سے ٹوئٹ ہونے کے بعد وزیراعظم کے فوکل پرسن برائے ڈیجیٹل میڈیا ڈاکٹر ارسلان خالد نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیک اکاؤنٹ ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اس فیک اکاؤنٹ کی تفصیلات متعلقہ اداروں اور ٹوئٹر کو ارسال کردی ہیں۔ چند شرپسند عناصر کو سوشل میڈیا کے ذریعے نفرت کا پرچار نہیں کرنے دیں گے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/arslankhalid_m/status/1361676152272785409?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30253322</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Feb 2021 09:57:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
