<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 08 Apr 2026 03:29:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 08 Apr 2026 03:29:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کا وہ قدیم جانور جو دنیا نے کبھی نہیں دیکھا
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30251358/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آج سے تقریباً پانچ کروڑ 60 لاکھ سے پہلے جہاں اٹک و فتح جنگ شہر کے درمیان کالا چٹا پہاڑ نامی سلسلہ کوہ واقعہ ہے، یہاں ایک گوشت خور شکاری جانور "پاکی سیٹس" پایا جاتا تھا جو لمبوترے جسم، مضبوط جبڑوں، لمبی تھوتھنی اور تیز دانتوں کے ساتھ لمبی دُم بھی رکھتا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بارے میں منظر عام پر آنی والی معلومات کے مطابق بنیادی طور پر یہ خشکی کا جانور تھا لیکن شکار کیلئے اپنے وقت کا بڑا حصہ پانی میں بھی گزارا کرتا تھا۔ آج سے کروڑوں سال پہلے اور خشکی پر رہنے والے وہیل کے یہ آباواجداد اپنی جسامت اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے کتوں اور بھیڑیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق پاکی سیٹس کی جسمانی لمبائی سات فٹ تک ہوا کرتی تھی اور اس کے وزن کا اندازہ 50 پاؤنڈ تک لگایا گیا ہے۔ اس کی خوراک بنیادی طور پر مچھلی اور آبی جانوروں پر مشتمل ہوتی تھی۔ اس جانور کا پہلا ڈھانچہ 1981 میں اٹک میں کالا چٹا پہاڑ سے برآمد ہوا تھا۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آج سے تقریباً پانچ کروڑ 60 لاکھ سے پہلے جہاں اٹک و فتح جنگ شہر کے درمیان کالا چٹا پہاڑ نامی سلسلہ کوہ واقعہ ہے، یہاں ایک گوشت خور شکاری جانور "پاکی سیٹس" پایا جاتا تھا جو لمبوترے جسم، مضبوط جبڑوں، لمبی تھوتھنی اور تیز دانتوں کے ساتھ لمبی دُم بھی رکھتا تھا۔</strong></p>

<p>اس کے بارے میں منظر عام پر آنی والی معلومات کے مطابق بنیادی طور پر یہ خشکی کا جانور تھا لیکن شکار کیلئے اپنے وقت کا بڑا حصہ پانی میں بھی گزارا کرتا تھا۔ آج سے کروڑوں سال پہلے اور خشکی پر رہنے والے وہیل کے یہ آباواجداد اپنی جسامت اور جسمانی ساخت کے اعتبار سے کتوں اور بھیڑیوں کی طرح دکھائی دیتے تھے۔ </p>

<p>آثار قدیمہ کے ماہرین کے مطابق پاکی سیٹس کی جسمانی لمبائی سات فٹ تک ہوا کرتی تھی اور اس کے وزن کا اندازہ 50 پاؤنڈ تک لگایا گیا ہے۔ اس کی خوراک بنیادی طور پر مچھلی اور آبی جانوروں پر مشتمل ہوتی تھی۔ اس جانور کا پہلا ڈھانچہ 1981 میں اٹک میں کالا چٹا پہاڑ سے برآمد ہوا تھا۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30251358</guid>
      <pubDate>Sun, 17 Jan 2021 08:55:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
