<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Aaj TV English News - News</title>
    <link>https://english.aaj.tv/</link>
    <description>Aaj TV English</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 29 Apr 2026 02:20:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 29 Apr 2026 02:20:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیروں سے آٹا گوندھنے اور گٹھنوں سے پیزا بریڈ بنانے کی ویڈیو وائرل
</title>
      <link>https://english.aaj.tv/news/30251167/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ممکن ہے آپ نے اپنی زندگی میں ایسا کمال کا پیزا کھایا ہوگا جسے ننگے فرش پر لٹا کر گھٹنوں کے بل چِت کیا جائے اور کالے سیاہ پیروں کے نیچے لتھاڑ کر بریڈ کی شکل دی جائے اور اس کے اوپر لوازمات سجا کر تکے اور فجیتے کے فلیور کے ساتھ پیش کیا جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب گندے پیروں کے نیچے لتھاڑ کر وہ بھی ننگے فرش کے اوپر پیزا تیار کیا جائے گا اور بنانے والے مزدوروں کے پاﺅں پسینے سے بھی شرابور ہوں اور انہوں نے جسم پر کپڑوں کے نام پر بھی چیتھڑے باندھ رکھے ہوں تو ذائقہ تو خود بخود پیدا ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آج کل سوشل میڈیا پر پیزا بنانے والے ایک کارخانے کی ویڈیو وائرل ہے۔ ویڈیو تو یہ انڈیا کی ہے مگر ہمارے ہاں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/roshovani/status/1349242163675103233?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی چھاپہ مار ٹیم ایک ایسی فیکٹری پر چھاپہ مارتی ہے جہاں پر پیزا بنانے کے لیے اس کے آٹے کو فرش پر ڈالا گیا ہے اور پیزا بریڈ کو بڑا کرنے کے لیے مزدور ننگے پیروں کے ساتھ اس کے اوپر چڑھے کھڑے ہیں اور گٹھنوں کے ساتھ اسے پریس کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کراہت بھرا یہ منظر دیکھنے کے قابل ہی ہے کہ جہاں پیزا کی بریڈ تیار کی جا رہی ہے وہ جگہ بھی انتہائی غلیظ ہے اور جو مزدور پیزا بریڈ تیار کررہے ہیں ان کی اپنی صفائی ستھرائی کی حالت بھی ناقابل دید ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ممکن ہے آپ نے اپنی زندگی میں ایسا کمال کا پیزا کھایا ہوگا جسے ننگے فرش پر لٹا کر گھٹنوں کے بل چِت کیا جائے اور کالے سیاہ پیروں کے نیچے لتھاڑ کر بریڈ کی شکل دی جائے اور اس کے اوپر لوازمات سجا کر تکے اور فجیتے کے فلیور کے ساتھ پیش کیا جائے۔</strong></p>

<p>جب گندے پیروں کے نیچے لتھاڑ کر وہ بھی ننگے فرش کے اوپر پیزا تیار کیا جائے گا اور بنانے والے مزدوروں کے پاﺅں پسینے سے بھی شرابور ہوں اور انہوں نے جسم پر کپڑوں کے نام پر بھی چیتھڑے باندھ رکھے ہوں تو ذائقہ تو خود بخود پیدا ہو جائے گا۔</p>

<p>آج کل سوشل میڈیا پر پیزا بنانے والے ایک کارخانے کی ویڈیو وائرل ہے۔ ویڈیو تو یہ انڈیا کی ہے مگر ہمارے ہاں بھی حالات کچھ ایسے ہی ہیں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/roshovani/status/1349242163675103233?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ کی چھاپہ مار ٹیم ایک ایسی فیکٹری پر چھاپہ مارتی ہے جہاں پر پیزا بنانے کے لیے اس کے آٹے کو فرش پر ڈالا گیا ہے اور پیزا بریڈ کو بڑا کرنے کے لیے مزدور ننگے پیروں کے ساتھ اس کے اوپر چڑھے کھڑے ہیں اور گٹھنوں کے ساتھ اسے پریس کر رہے ہیں۔</p>

<p>کراہت بھرا یہ منظر دیکھنے کے قابل ہی ہے کہ جہاں پیزا کی بریڈ تیار کی جا رہی ہے وہ جگہ بھی انتہائی غلیظ ہے اور جو مزدور پیزا بریڈ تیار کررہے ہیں ان کی اپنی صفائی ستھرائی کی حالت بھی ناقابل دید ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://english.aaj.tv/news/30251167</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Jan 2021 10:07:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
    </item>
  </channel>
</rss>
